قندیل ہدایت — Page 861
861 of 1460 میں دوسروں سے اعانت کا طلب گار رہا اس وقت تک تو میرے سامنے ایک حجاب ساتھا لیکن جب اللہ تعالیٰ سے اعانت کا طالب ہوا تو میرے قلب میں ایک سوراخ نمودار ہوا اور پہلی سی بے قراری ختم ہو گئی۔جیسا کہ باری تعالیٰ کا قول ہے کون ہے جو حاجت مند کے پکارنے پر اس کا جواب دے " آپ نے فرمایا کہ جب تک تو نے صادق کو آواز دی اس وقت تک تو جھوٹا تھا اور اب قلبی سوراخ کی حفاظت کرنا۔ارشادات فرمایا جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی کسی خاص شے پر موجود ہے یا کسی شے سے قائم ہے وہ کافر ہے۔فرمایا کہ جس معصیت سے قبل انسان میں خوف پیدا ہو وہ اگر توبہ کر لے تو اس کو اللہ تعالی کا قرب حاصل ہوتا ہے۔اور جس عبادت کی ابتداء میں مامون رہنا اور آخر میں خود بینی پیدا ہونا شروع ہو تو اس کا نتیجہ بعد الہی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور جو شخص عبادت پر فخر کرے وہ گنہگار ہے اور جو معصیت پر اظہار ندامت کرے وہ فرمانبردار ہے۔کسی نے آپ سے سوال کیا کہ صبر کرنے والے درویش اور شکر کرنے والے مالدار میں سے آپ کے نزدیک کون افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ صبر کرنے والے درویش کو اس لئے فضیلت حاصل ہے کہ مالدار کو ہمہ اوقات اپنے مال کا تصور رہتا ہے۔اور درویش کو صرف اللہ تعالی کا خیال۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ " توبہ کرنے والے ہی عبادت گزار ہیں " آپ فرماتے ہیں کہ ذکر الہی کی تعریف یہ ہے کہ جس میں مشغول ہونے کے بعد دنیا کی ہر شئے کو بھول جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر شے کا نعم البدل ہے۔مختص برحمتہ من یشاء کی تفسیر کے سلسلہ میں آپ کا قول ہے کہ اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے خاص کر لیتا ہے۔یعنی تمام اسباب ووسائل ختم کر دیئے جاتے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ عطائے الہی بلا واسطہ ہے نہ کہ بالواسطہ۔فرمایا مومن کی تعریف یہ ہے کہ جو اپنے مولیٰ کی اطاعت میں ہمہ تن مشغول رہے فرمایا کہ صاحب کرامت وہ ہے جو اپنی ذات کے لئے نفس کو سرکشی سے آمادہ بجنگ رہے کیونکہ نفس سے جنگ کرنا اللہ تعالی تک رسائی کا سبب ہوتا ہے۔فرمایا کہ اوصاف مقبولیت میں سے ایک وصف العام بھی ہے جو لوگ دلائل سے الہام کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں وہ بد دین ہیں۔فرمایا اللہ تعالی اپنے بندے میں اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے جتنا کہ رات کی تاریکی میں سیاہ پتھر پر چیونٹی رینگتی ہے۔فرمایا کہ عشق الہی نہ تو اچھا ہے نہ برا۔فرمایا کہ مجھ پر رموز حقیقت اس وقت منکشف ہوئے جب میں خود دیوانہ ہوگیا۔فرمایا نیک بختی کی علامت یہ بھی ہے کہ قلمند دشمن سے واسطہ پڑ جائے۔فرمایا کہ پانچ لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنا چاہئے۔اول جھوٹے سے کیونکہ اس کی صحبت فریب میں مبتلا کر دیتی ہے۔دوم بے وقوف سے کیونکہ جس قدر وہ تمہاری منفعت چاہے گا اسی قدر نقصان پہنچے گا۔سوم کنجوس سے کیونکہ اس کی صحبت سے بہترین وقت رائے گاں ہو جاتا ہے۔چہارم بزدل سے کیونکہ یہ وقت پڑنے پر ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔نجم فاسق سے کیوں کہ ایک نوالے کی طمع میں کنارہ کش ہو کر مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔فرمایا کہ الہ