قندیل ہدایت — Page 792
792 of 1460 تحذیر الناس صدوقی اوصاف علم میں سے پر نبوت اور صدیقیت میں وہی فرق فاعلیت اور قابلیت جو آفتاب و آئینہ میں وقت تقابل معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ وہ حدیث مرفوع قولی جس کا یہ مطلب ہے کہ جو میرے سینہ میں خدا نے ڈالا تھا میں نے ابو بکر کے سینہ میں ڈالدیا۔اس پر شاہد ہے مگر جیسے نبی کو نبی اس لیے کہتے ہیں کہ خبر واریا خبر دار کرنے والا ہوتا ہے صدیق کو صدیق اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی عقل بجر قول صادق قبول نہیں کرتی۔قول صادق ہے دلیل اس طرح قبول کر لیا ہے جس طرح مٹھائی کو معدہ اور قول باطل سے اس طرح گھبراتا ہے اور اس طرح اس کو رد کرتا ہے جیسے مکھی کو معدہ رد کرتا ہے۔پہنچی تھا کہ صدیق اکبر کو ایمان لانے کے لئے معجزہ کی ضرورت نہ ہوئی علیٰ ہذا القیاس مصداق شہید بذات حدیث وہ شخص ہے جو اعلاء کلمتہ اللہ اور ترقی دین کے لئے جان دینے کو تیار ہو ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کسی نے پو چھا کہ ہم نے آدمی طمع مال میں لڑتے ہیں اور بعضے بوجہ عصبیت یعنی بوجہ قرابت وکمیت قومی اور بعضے بفرض نامور کی ان میں سے شہید کون ہوتا ہے تو آپ نے فرما بار من قاتل لتكون كامة الله هي العليا عرض شہادت اس صورت میں عوارض ہمت اور قوت گلی میں سے ہوئی اور شہید اول درجہ کا آمر بالمعروف اور نا ہی عن المنکر ہوا اور اسی وجہ سے شاید شہید کو شہید کہتے ہیں لینے ہر بروز قیامت وہ شاہد ہو گا۔کہ فلانا من حکم خدا مان گیا تھا۔اور خلا نے نے نہیں مانا کیونکہ اس بات کی اطلاع جیسے آمر بالمعروف اور نا ہی عن المنکر کو ہو سکتی ہے اتنی اورں کو نہیں ہو سکتی اور اس کی گواہی اسباب میں ایسی سمجھے جیسے کسی مقدمہ میں سر کالہ کی سالانہ مان کی گواہی چنانچہ اس امت کے حق میں یہ فرمانا- کنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنکر اور ادھر یہ ارشاد و كذالك جعلتكم امة وسطاً لتكونوشها و على الناس غور کیجئے تو اسی جانب مشیر ہے عرض شہید سے فیض عمل ہوتا ہے یعنی پہلے عمل اور وں سے کر آتا ہے۔اور پیرے علموں سے روکتا ہے ہو جو شخص اس سے مستفیض ہو وہ صالح ہے اور ظاہر سے