قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 791 of 1460

قندیل ہدایت — Page 791

791 of 1460 تحذیر ان اس ہیں ورنہ مدرک تحقیقی اور عالم تحقیقی در قتل اور نفس ناطقہ ہی ہے اسی طرح سے عالم حقیقی رسول اللہ مسلم میں اور انبیاء باقی اور اولیاء اور علماء گذشته و مستقبل اگر عالم میں تو بالعرض ہیں۔مگر اس کے ساتھ یہ بھی اہل فہم جانتے ہیں کہ نبوت کمالات علمی میں سے ہے کمالات عملی میں ہیں۔الغرض کمالات ذوی العقول کل دو کمالوں میں منحصر ہے ایک کمال علمی دوسرا کمالی عملی اور بنا ر ماج کل انہیں دو باتوں پر ہے۔چنانچہ کلام اللہ میں چھانہ فرقوں کی تعریف کرتے ہیں نبیین اور صدیقین اور شہداء اور صالحین جنمیں سے انبیاء اور صدیقین کا کمال تو علمی ہے اور شہدار اور صالحین کا کمال عملی انبیاء کو تو منع العلوم اور فاعل اور صدیقین کو مجمع العلوم اور قابل سمجھئے اور شہدار کو منبع العمل اور فاضل اور صالحین کو مجمع العمل اور قابل خیال فرمائیے۔دلیل اس دعوئی کی یہ ہے کہ انبیاء اپنی امت سے اگر ممتاز ہوتے ہیں تو نادم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں۔باقی رہا عمل اس میں بسا اوقات بظاہر امتی مسادی ہو جاتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔اور اگر قوت عمل اور ہمت میں انبیاء انتیوں سے زیادہ بھی ہوں تو یہ معنے ہوئے کہ مقام شہادت اور وصف شہادت بھی ان کو حاصل ہے مگر کوئی ملقب ہوتا ہے ؟ مرز ایجانِ جاناں صاحہ ہے شاہ غلام علی صاحب شاہ ولی اللہ صاحب او به شاد عبد العزیز صاحب پیار دل صاحب جامع بین الفقر والعلم تھے پر مرتبا صاحب اور شاہ غلام علی صاحب تو فقیری میں مشہور ہوئے اور شاہ ولی اللہ صاحب اور شاہ عبد العزیز صاحب علم میں وجہ اس کی یہی ہوئی کہ ان کے علم پر تو ان کی فقیری غالب تھی اور ان کی فقیری پیر ان کا علم اگر چہ ان کے علم سے ان کا علم یا۔ان کی فقیر کی کم نہ ہو سو انبیاء میں سے علم عمل سے غالب ہوتا ہے اگر چہ ان کا عمل اور ہمت اور قوت اور ان سے عمل اور ہمت اور قوت سے غالب ہو۔بہر حال علم میں انبیاء اور دل سے ممتاز ہوتے ہیں اور مصداق نبوت وہ کمال علمی ہی ہے جیسا کہ مصداق صدیقیت بھی وہ کمال علمی ہے چنانچہ لفظ نیاد صدق بھی ماند اوصاف مذکور ہے اس بات پر شاہد ہے نیا خود خبر کو کہتے ہیں۔جو اقسام علوم یا معلوم میں سے ہے اور م تو اپنے اوصاف ظالبہ کے ساتھ مرتب ہوتا ہے۔