قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 553 of 1460

قندیل ہدایت — Page 553

553 of 1460 ہو گیا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں۔اور کسری و قیصر نہیں تھا مگر روم اور فارس کا بادشاہ اور روم میں بادشاہ ہمیشہ رہا۔لیکن صرف یہ نام اٹھ گیا باوجود یکہ ان میں بادشاہ پایا گیا اور ان کے بادشاہ کا نام اس کے علاوہ کوئی اور رکھا گیا۔اور شیخ عبد القادر الجیلی فرماتے ہیں کہ انبیاء کو ام نبوت عطا فرمایا گیا اور ہمیں لقب۔یعنی ہم پر اسم نبی ممنوع ہے۔باوجود یکہ حق تعالیٰ ہمیں ہمارے سرائر میں اپنے کلام اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کے معنوں کی خبر دیتا ہے اور اس مقام والوں کو خصوصی فیض نبوت پانے والے اولیاء کا نام دیا جاتا ہے۔تو ان کے فیض نبوت کی غایت احکام شرعیہ کا مکمل تعارف ہے تا کہ ان میں خطا نہ کریں۔اور کچھ نہیں۔انتھی۔( اقول وباللہ التوفیق۔یہاں وہ حاشیہ دیکھ لیا جائے جو کہ مقام وسیلہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تخصیص کے عنوان کے تحت درج ہے۔ضروری ہے۔محمد محفوظ الحق غفرلہ ) تشریع مجتہدین کا حکم اگر تو کہے کہ مجتہدین کے شریعت بیان کرنے کا کیا حکم ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ مجتہدین نے اپنی طرف سے کوئی چیز شریعت کے طور پر بیان نہیں کی۔انہوں نے تو صرف وہ شرعی امور بیان کئے ہیں جن کا احکام میں ان کے غور و فکر نے تقاضا کیا اس حیثیت سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجتہدین کے حکم کو برقرار رکھا۔تو ان کا حکم آپ کی اس شرع سے ہی ہوا جو آپ نے مقرر فرمائی۔کیونکہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جنہوں نے مجتہد کو وہ مادہ عطا فرمایا جس میں اس نے دلیل سے اجتہاد کیا۔اور اگر فرض کیا جائے کہ مجتہد نے ایسی شریعت ا جاری کی جو اسے شارع کی طرف سے وارد ہو نیوالی دلیل نے عطا نہیں کی تو ہم اسے اس پر رد کر دیں گے کیونکہ یہ ایسی شرع ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اذن نہیں دیا۔واللہ اعلم۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل المرسلین اور خاتم انہین اور اعلم باللہ تعالی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل ہونے اور یہ کہ آپ ان کے خاتم میں اور سہ ماں کے سب آپ سے ہی استمداد کرتے ہیں کی تائید ۴۹ دیں باب کے علوم میں شیخ کے اس قول سے ہوتی ہے کہ خلق میں سے کسی کے لئے کوئی علم میں جو وہ دنیا و آخرت میں حاصل کرتا ہے مگر وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باطنیت سے ہے۔برابر ہے کہ آپ کی بعثت شریفہ کے زمانے سے پہلے کے انبیاء وعلماء ہوں یا بعد والے۔اور ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ کو اولین و آخرین کا علم دیا گیا ہے اور بلا شبہ ہم آخرین میں سے ہیں۔اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا شدہ علم میں حکم عام رکھا ہے۔پس یہ منقول۔معقول مفہوم اور موہوب ہر علم کو شامل ہے۔پس اے بھائی ! کوشش کر کہ تو ان میں سے ہو جو کہ علم باللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل کرتے ہیں۔کیونکہ آپ اللہ کے متعلق ساری مخلوق سے مطلقاً زیادہ عالم ہیں۔اور اس سے پر ہیز کر کہ تو آپ کی امت کے علماء میں سے کسی کو بلا دلیل خطا کار گردانے۔اور یہ ایک راز ہے جس پر میں نے تجھے متلمبہ کیا ہے۔اس کی حفاظت کر، اور یہ مت کہہ کہ تو نے وسیع کو تنگ کر دیا ہے اور تو یوں کہنے لگے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وجہ خاص سے جو کہ ہر مخلوق اور اس کے رب عز و جل کے درمیان ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے کے بغیر جو چاہے علوم عطا فرماتا ہے اور حضرت خضر علیہ السلام کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو کہ اپنے زمانے کے رسول ہمیں رونما ہونے والے واقعہ سے دلیل پکڑے۔کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ ہم نے تجھ پر نگی نہیں کی کہ تو