قندیل ہدایت — Page 493
"B الاحزاب 493 of 1460 www۔sirat-e-mustaqeem۔com 578 تفسیر در منثور جلد پنجم امام احمد ، امام بخاری، امام مسلم، امام نسائی اور ابن مردویہ رحمہم اللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ اللہ ہم نے فرمایا : میری اور مجھ سے قبل انبیاء کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو گھر بنائے ، اسے خوبصورت بنائے مگر اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں اینٹ کی جگہ چھوڑ دے۔لوگ اس کے اردگرد چکر لگا ئیں۔اسے دیکھ کر خوش ہوں اور کہیں یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی؟ میں وہ اینٹ ہوں۔میں خاتم النبین ہوں۔(1) امام احمد اور امام ترمذی رحمہما اللہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم میں انہم سے روایت کرتے ہیں جبکہ امام ترندی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قراردیا ہے کہ انبیاء میں میری مثال اس آدمی جیسی ہے جو گھر بنائے ، اسے حسین و جمیل و مکمل کرے اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دے ، وہ اینٹ اس جگہ نہ رکھے۔لوگ اس عمارت کے اردگرد چکر لگانے لگیں اور اس سے خوش ہوں اور کہیں کاش! اس اینٹ کی جگہ بھی مکمل ہوتی۔میں انبیاء میں اس اینٹ کی جگہ ہوں۔(2) امام ابن مردویہ نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ مالی و ایم نے فرمایا: میری امت میں تمہیں کذاب ہوں گے۔جن میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے جبکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔امام احمد رحمہ اللہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم اللہ یکم سے روایت کرتے ہیں، فرمایا: میری امت میں ستائیسں دجال وکذال ہوں گے، ان میں سے چار عورتیں ہوں گی۔میں خاتم النبین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(3) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ کہو خاتم النبین یہ ہ کہو لا نَبِيَّ بَعْدَهُ۔(4) امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس یہ کہا صَلَّى اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ الانْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَ تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب تو نے خاتم الانبیاء کہہ دیا تو تیرے لیے یہ کافی ہے کیونکہ ہم باتیں کیا کرتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لانے والے ہیں۔اگر وہ تشریف لائیں تو ایک اعتبار سے پہلے اور ایک اعتبار سے بعد میں ہوئے۔(5) امام ابن انباری رحمہ اللہ نے مصاحف میں حضرت ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے: میں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو پڑھایا کرتا تھا کہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔آپ نے مجھے فرمایا انہیں خاتم النبین ( تاء کے فتح کے ساتھ ) پڑھاؤ۔اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكَرَ كَثِيرًا اے ایمان والو! یاد کرو اللہ تعالیٰ کو کثرت سے۔1۔مسند امام احمد ، جلد 2، صفحہ 312، دار صادر بیروت -2 سنن ترمذی مع عارضہ الاحوذی ، جلد 13 صفحہ 89(3613)، دار الکتب العلمیہ بیروت -3 مسند امام احمد ، جلد 5 ، صفحہ 396 ، دار صادر بیروت 4 - مصنف ابن ابی شیبہ، باب لانبی بعد النبی سے یا ایم جلد 5 صفحہ 336 (26653) ، مکتبة الزمان مدینه منوره 5 - ايضا ، جلد 5 ، صفحہ 337 (26654)