قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 42 of 1460

قندیل ہدایت — Page 42

42 of 1460 یر ۴۰۶ انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا، کے متعلق فرمایا: جان لے کہ اس عہد کی بنا پر جو کہ انبیاء پر آپ کی سیادت اور نبوت کے متعلق ان سے لیا گیا جو کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے واذ اخذ الله ميثاق النبين لما آنيتكم من كتاب وحكمة (آل عمران آيت ۸) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نبی الانبیاء میں علیہ و علیم الصلات و تسلیمات۔پس آپ کی رسالت اور شریعت سب لوگوں کو عام ہے۔اس کوئی نبی علیہ السلام کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا مگر وہ چیز اصل میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیلئے ہے۔انھی۔پس ہر نبی جو آپ کے ظہور سے پہلے ہوا وہ اس شرایت کے ساتھ اپنی بعثت میں آپ ہی کا نائب ہے۔اسے شیخ تقی الدین السبکی نے ذکر فرمایا اور خصائص کی ابتداء میں اسے امام جلال الدین انسیوطی نے آپ سے نقل کیا۔قرآن کریم کے نزول تفصیلی سے پہلے نزول اجمالی میں حکمت اگر تو کہے کہ پیسے نہ چکا ہے کہ قرآن کریم رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر تفصیلی نزول سے پہلے اجمالی طور پر اتارا گیا اس میں حکومت کیا ہے ؟ " بواب یہ ہے کہ اجمالی طور پر اس لئے اتارا گیا تا کہ آپ پر تنزیل قرآن اور اولیاء پر تنزیل علوم کے درمیان امتیاز ہو سکے۔کیونکہ امور کا درجہ بدرجہ ہونا تو صرف تکلفا عمل کرنے لئے ہوتا ہے جبکہ رسالت عطا کرنے میں کوئی تکلف نہیں بخلاف اولیاء کے کہ ان پر علوم صرف تفصیلی طور پر ای نازل کئے جاتے ہیں کیونکہ ان میں ترقی اور اپنے کسب کی جہت ہے۔پس نبوت صبہ ہے اور ولایت کسب ہے۔انا سيد ولد آدم ولا فخر اور آپ نے فتوحات کے دسویں باب میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادا نا سید ولد آدم ولا نحر کے متعلق فرمایا کہ آپ اولاد آدم کے سردار ہیں کیونکہ تمام انبیاء علیہم السلام حضرت آدم سے لے کر آخری رسول تک جو کہ عیسی علیہ السلام ہیں سب آپ کے نائب ہیں جیسے کہ یہ حدیث اسے ظاہر کرتی ہے لوکان موسی و عیسی حین ما وسعهما الا اتباعی یعنی اگر حضرت موسیٰ و عیسی یہاں موجود ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ نہ تھا۔اور اس میں آپ بالکل برحق ہیں کیونکہ حضرت آدم سے لے کر اپنے وجود کے زمانے تک اپنے جسم کے ساتھ موجود تھے تو تمام نبی آدم حسی طور پر آپ کی شریعت کے تحت ہیں۔اور اسی لئے کوئی نبی لوگوں کی طرف عموم کے ساتھ مبعوث نہیں ہوا مگر وہ خاص ہے۔میں انبیاء علیہم الصلوہ والسلام کی تمام شریعی در حقیقت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کی شریعت ہیں۔اگر تو کہے کہ کیا آپ کی شریعت کا پہلی ہر شریعت کو منسوخ کرنا ان شریعتوں کو آپ کی شرع ہونے سے خارج کر دیتا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ وہ نسخ ان شریعتوں کو آپ کی شریعت ہونے سے خارج نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شرع ظاہر میں نسخ کا ہمیں گواہ بنایا ہے باوجود یکہ ہمارا اس امر پر اجتماع اور اتفاق ہے کہ یہ آپ کی وہی شریعت ہے جو آپ پر نازل کی گئی۔پس پہلا حکم بعد والے کے ساتھ منسوخ ہو گیا۔اور تمام انبیاء علیہم السلام کا آپ کا نائب ہونے کا حق میں یہ بات بھی گواہی دیتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جب زمین پر نازل ہوں گے تو اپنی شریعت کے ساتھ فیصلہ نہیں کریں گے جس پر کہ آپ اپنے اٹھانے جانے سے پہلے تھے۔صرف حضور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شرع کے مطابق فیصلہ کریں گے جس کے ساتھ آپ اپنی امت کی طرف مبعوث فرمائے گئے۔اور اگر وہ شرع جس کے ساتھ حضرت عیسی علیہ السلام نزول کے وقت فیصلہ فرمائیں گے اصل میں آپ کی ہوتی تو پھر تو نزول کے وقت اس کے ساتھ فیصلہ کرتے۔