قندیل ہدایت — Page 229
433 229 of 1460 www۔kitabosunnat۔com مفردات القرآن - جلد 1 ہیں جو موسم گرما اور سرما میں برابر دودھ دیتی ہوں اور ان کا استعمال ہوتا ہے۔جیسے فرمایا: دودھ کبھی خشک نہ ہوتا۔ہو شاعر نے کہا ہے۔﴿وَاذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيتِ) (۲- ( ١٩٠) أَطْعَمْتَ الْعِرَاقَ وَرَافِدَيْهِ ۱۲۷) اور جب ابراہیم (الینا) خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا فَزَارِيَا أَحَديدِ الْقَمِيصِ۔رہے تھے۔اور بھی ناموری اور شہرت کا ذکر بلند کرنے کے یعنی تو نے عراق اور دجلہ و فرات پر ایک فزاری کو عامل بنا لئے جیسے فرمایا: ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ﴾ (۹۴-۴) اور کر بھیجا ہے جو خیانت میں نہایت ماہر ہے۔ہم نے تمہارے ذکر خیر کا آوازہ بلند کیا۔یهان را فدیہ سے دجلہ اور فرات مراد ہیں کیونکہ ان کا اور بھی مرتبہ کی بلندی بیان کرنے کے لئے۔جیسے فرمایا: پانی مسلسل جاری رہتا ہے۔بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ (1) - تَرَافَدُوا کے معنی ایک دوسرے سے تعاون کرنا کے ہیں (۱۶۶) اور ان میں سے بعض کو بعض پر بلحاظ درجات کے اسی سے دفادہ ہے یعنی وہ فنڈ جو قریش نادار حجاج کی مدد فوقیت دی۔کے لیے جمع رکھتے تھے (رفع) الرفع (ف) کے معنی نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّنْ نَّشَاءُ) (۱۲-۷۶) اور ہم اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ بھی تو مادی چیز جو اپنی جگہ جس کو چاہتے ہیں (حسن تدبیر میں ) اس کے درجے بلند پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر کر دیتے ہیں۔بولا جاتا ہے۔جیسے فرمایا: رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ (۴۰-۱۵) خدا بڑا اور آیت: بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ﴾) (۴-۱۵۸) بلکہ ﴿وَرَفَعْنَا فَوقَكُمُ الطُّور (۲-۶۳) اور ہم نے طور عالی مرتبہ (اور ) عرش (بریں ) کا مالک ہے۔پر پہاڑ کو تمہارے اوپر لا کر کھڑا کیا۔اللهُ الَّذِى رَفَعَ السَّمُوتِ بِغَيرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا۔(۲-۱۳) اللہ وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں میں رفع کے معنی آسمان کی طرف اٹھا لے جانا بھی ہو سکتے ہیں اور رفع بلحاظ شرف بخشی بھی اور ( قیامت کے کسی سہارے کے اونچا ہنا کھڑا کیا۔اور کبھی عمارت کو کھڑا کرنے اور اوپر لے جانے کے لئے متعلق) آیت: قاله الفرزوق يهجو عمر بن هبيرة الفزاري ويخاطب يزيد بن عبد الملك لما ولاه العراق ۱۰۲ هـ وقبله : تفهيق بالعراق ابو المثنى وعـلـم قـومـه اكل الخبيص والبيت في السمط ٨٦٢ واللسان والمحكم والصحاح (حذذ) و ديوانه (٢) : ٤٨٨) رقم ٣٠٤ والحصري (٥٧:١) والجرجاني ٧٤ والكامل ۸۰۸ والرافدان : الدجلة والفرات والبيت ايضا في الحيوان (٦/١٩٧:٥: ٥١٠) في اربعة ابيات والخبر في الفاضل ۱۱۱ وادب الكاتب للصولى والبيت ايضاً فى مجازات القران ۲۹۱ والمعارف للقتبى ۱۷۹ والمعاني للقتبى ٥٩٧ والرواية في معظم المصادر " أطعمت " وفى الاغانى (۱۹-۱۷) والامالي (۱۲۳ت) والصحاح أوليت وفي الحيوان والاساس واللسان (رفد) بعثت الى فاظن ان الفاء فى المطبوع مصحف قال القتبى فى المعانى الاحذ معناه سريع اليد واراد خفة يده في السرقة والخيانة ( كذا في الصحاح ) وذكر القميص لتسديد القافيه وذكر الاخباريون : فعزله يزيد ١٠٥هـ ثم لم يسمع له ذكر۔لتكن الرفع الى السماء متعين في الآية لان الاحاديث تدل بالتواتر على هذا المعنى راجع (ى ق ت )۔محکم دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ