قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 175 of 1460

قندیل ہدایت — Page 175

سم النقر آن ها 175 of 1460 السكون فَبظلم مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَتِ أُحِلَّتْ لَهُمُ وَبِصَدِ هِم عَنْ سَبِيلِ اللهِ كَثِيران و اخذِهِمُ الرّبوا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَآلِهِم اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلُ غرض ان سیو دی بن جانے والوں کے اسی ظالمانہ رویہ کی بنا پرا اور اس بنا پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، اور سو دیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں، ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں تو منتقد و صحابہ تابعین اور اکا بر مفترین سے منقول ہیں اور صحیح مراد صرف اللہ ہی کے علم میں ہے۔۱۹۷ یعنی یہودیوں اور عیسائیوں نے میسج علیہ السلام کے ساتھ اور اس پیغام کے ساتھ ابو آپ لائے تھے ابجو معاملہ کیا ہے اس پر آپ خداوند تعالٰی کی عدالت میں گھرا ہی دیں گے۔اس گواہی کی کچھ تفصیل آگے سورہ مائدہ کے آخری رکوع میں آنے والی ہے۔194 جملہ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ تقریر شروع ہوتا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا۔199 یعنی صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ خود اللہ کے راستے سے منحرف ہیں، بلکہ اس قدر بے باک مجرم بن چکے ہیں کہ دنیا میں خدا کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے جو تحریک بھی اُٹھتی ہے، اکثر اس کے پیچھے یہودی دماغ اور بیوردی سرمایہ ہی کام کرتا نظر آتا ہے ، اور راہ حق کی طرف بلانے کے لیے جو تحریک بھی شروع ہوتی ہے اکثر اس کے مقابلہ میں سیو دی ہی سب سے بڑھ کر مزاحم بنتے ہیں، در آن حالے کہ یہ کم بخت کتاب اللہ کے حامل اور انبیاء کے وارث ہیں۔ان کا تازہ ترین جرم یہ اشتراکی تحریک ہے جسے میو دی دماغ نے اختراع کیا اور سیر وی رہنمائی ہی نے پروان چڑھایا ہے۔ان نام نہاد اہل کتاب کے نصیب میں یہ جرم بھی مقدر تھا کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو نظام زندگی اور نظام حکومت خدا کے صریح انکار پر خدا سے کھلم کھلا دشمنی پر خدا پرستی کو مٹا دینے کے علی الاعلان عزم وارادہ پر تعیر کیا گیا اس کے موجد و مخترع اور بانی دسر براہ کار موسی علیہ اسلام کے نام لیوا ہوں۔اشتراکیت کے بعد زمانہ جدید میں گراہی کا دوسرا بڑا استون فرائڈ کا فلسفہ ہے اور تکلف یہ ہے کہ وہ بھی بنی اسرئیل ہی کا ایک فرد ہے۔تو راہ میں بالفاظ صریح یہ حکم موجود ہے کہ : اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو، قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔اگر تو کسی وقت اپنے ہمسایہ کے کپڑے گرد رکھ بھی لے تو سورج کے ڈوبنے تک اس کو واپس کر دیا کیونکہ فقط وہی ایک اُس کا اوڑھنا ہے، اس کے جسم کا وہی لباس ہے ،