قندیل ہدایت — Page 174
174 of 1460 التامة ليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَليهم شهيدان ہو اُس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی نے گیا، اللہ نے اُٹھا لیا تو اس کا ذکر کرنے کے بعد یہ فقرہ بالکل غیر موزوں تھا کہ اللہ زبر دست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے۔یہ تو صرف کسی ایسے واقعہ کے بعد ہی موزون و مناسب ہو سکتا ہے جس میں اللہ کی قوت قاہرہ اور اس کی حکمت کا غیر معمولی ظہور ہوا ہو۔اس کے جواب میں قرآن سے اگر کوئی دلیل پیش کی جاسکتی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ صرف یہ ہے کہ شورڈ آل عمران میں اللہ تعالٰی نے متوفیات کا لفظ استعمال کیا ہے (آیت 10) لیکن جیسا کہ وہاں ہم حاشیہ نمبر اہ میں واضح کر چکے ہیں، یہ لفظ طبیعی موت کے معنی میں صریح نہیں ہے بلکہ قبض روح اور قبض روح و جسم، دونوں پر دلالت کر سکتا ہے۔لہذا یہ اُن قرائن کو ساقط کر دینے کے لیے کافی نہیں ہے جو ہم نے اوپر بیان کیے ہیں۔بعض لوگ جن کو میسیج کی طبعی موت کا حکم لگانے پر اصرار ہے، سوال کرتے ہیں کہ توکی کا لفظ قبض روح و جسم پر استعمال ہونے کی کوئی اور نظیر بھی ہے ، لیکن جب کہ قبض روح و جسم کا واقعہ تمام نوع انسانی کی تاریخ میں پیش ہی ایک مرتبہ آیا ہو تو اس معنی پر اس لفظ کے استعمال کی نظیر پوچھنا محض ایک بے معنی بات ہے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ آیا اصل لغت میں اس استعمال کی گنجائش ہے یا نہیں۔اگر ہے تو ماننا پڑے گا کہ قرآن نے رفع جسمانی کے عقیدہ کی صاف تردید کرنے کے بجائے یہ لفظ استعمال کر کے اُن قرائن میں ایک اور قرینہ کا اضافہ کر دیا ہے جن سے اس عقیدہ کو الٹی مدد ملتی ہے اور نہ کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ موت کے صریح لفظ کو چھوڑ کر وفات کے محتمل العینین لفظ کو ایسے موقع پر استعمال کرتا یہاں رفع جمانی کا عقیدہ پہلے سے موجود تھا اور ایک فاصلا اعتقاد یعنی الوہیت مسیح کے اعتقاد کا موجب بن رہا تھا۔پھر رفع جمانی کے اس عقیدے کو مزید تقویت اُن کثیر التعداد احادیث سے پہنچتی ہے جو قیامت سے پہلے حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں آنے اور وقبال سے جنگ کرنے کی تصریح کرتی ہیں تفسیر سورہ احتساب کے خیمہ میں ہم نے ان احادیث کو نقل کر دیا ہے۔اُن سے حضرت مینی کی موٹائی تو قطعی طور پر ثابت ہے۔اب یہ شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ ان کا مرنے کے بعد دوبارہ اس دنیا میں آنا زیادہ قرین قیاس ہے یا ہندہ کہیں خدا کی کائنات میں موجود ہونا اور پھر واپس آنا ؟ 194 ء اس فقرے کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں اور الفاظ میں دونوں کا یکساں استعمال ہے۔ایک معنی وہ ہجو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔دوسرے یہ کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہ لے آئے۔اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ عیسائی بھی ہوں۔پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ یسی کی طبعی موت جب واقع ہو گی اس وقت جتنے اہل کتاب موجود ہوں گے وہ سب ان پر یعنی ان کی رسالت پر ایمان لا چکے ہوں گے۔دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ تمام اہل کتاب پر مرنے سے مین قبل رسالت مسیح کی حقیقت منکشف ہو جاتی ہے اور وہ میسیج پر ایمان لے آتے ہیں، مگر یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ایمان لانا مفید نہیں ہو سکتا۔دونوں معنی