قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 150 of 1460

قندیل ہدایت — Page 150

قرآن 150 of 1 460 سور مالح ال عمران ۳ يوم من البرولو د رجو: جس ان کے کچھ نہ سفید ہونگے اور کچھ منہ کام ہو گی ناما الَّذِينَ امُوَدَّتْ وُجُوهُم پھر جن کے منہ کالے ہونگے ان سے کہا جاو گیا) الْفَر تُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ کر کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے حذُوقُوا الْعَذَابَ بمَا كُنتُم پھر عذاب کا مزہ) سیکھو اپنے کافر ہونے پر تَكْفُرُونَ کی قدر ومنزلت کا اظہار مقصد ہے نہ یہ کہ اُن کے جسم کو اٹھا لینے کا۔تفسیر کبیر میں بھی عین علماء کا قول لکھا ہے کہ لفظ ، دفع کا تعلیمی او یقینا ہو گیا ہے۔جن علمائے : متوفيك : کے معنی " مميتك » کے قرار دئے تھے انہوں نے قرآن چید d متوفيك ان مميتك وھو مری کے ٹھیک ٹھیک معنی رکھے تھے ، ان کا خیال تھا کہ یہودیوں نے قالوا والمتصورات الا يصل عناد حضرت ینے کو قتل نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی موت سے رے عن ابن عباس و محمد است اسحاق من اليهود الى قتلہ ثمانه بعد اگر انہوں نے ، رافعک ، کے معنوں میں غلطی کی جو یہ خیال ذلك اكرمة بان بقعه إلى السماء کیا کہ پرندہ ہو کر آسمان پر چلنے گئے ، کیونکہ ، رافعك ، احدها قال وهب توفى ثلاث شد اختلفوا على ثلاثة ارجن کے لفظ سے جیسا ہم نے اوپر بیان کیا آسمان پر جانا لا قدم ساعات ثم رفع وثانيهات المحمد نہیں آتا۔تفسیر کبیر میں لکھنا ہے کہ حضرت جینے پر موت طبیعی ابن اسحاق تیری سیم ساعات طاری کرنے سے مقصود یہ تھا کہ ان کے دشمن اُن کو قتل شر احیاء الله ورفعها الثالث قال الموسع من الترانه تعالى توفاہ کر سکیں۔وہب کا یہ قول ہے کہ وہ تین گھنٹہ ایک مردہ ہے ئے حين رفعه الى السماء قال تعالیٰ اللہ اور محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ سات گھنٹ ہیک، پھر زندہ ہوں ترقت منامها - يتولى الا نفرحین موتها والتی اور آسمان پر چلے گئے ، اور ربیع ابن انس کا قول ہے کہ (تفسیر کبیر اللہ تعالے نئے آسمان پر اٹھاتے وقت موت دی ہے بهر حال ان اقوال سے اس قدر ثابت ہوا کہ بعض علما اس بات کے قائل ہوئے ہیں کو حضرت پینے کو بیت طبیعی طاری ہوئی ، اور بعض علما نے رفع کے لفظ سے حضرت سینے کے جسمہ کا آسمان پر اُٹھا لینا مراد نہیں لیا ، بلکہ اُس سے اُن کی قدرو منزلت مراد لی ہے پس جب ان دونوں قولوں کو تسلیم کیا جاوے تو جو ہم بیان کرتے ہیں وہی پایا جاتا ہے کہ حضرت بیٹے کو میہودیوں نے نہ سنگسار کر کے قتل کیا : صلیب پر قتل کیا بلکہ وہ اپنی موت سے مرے قولم را فعك الى ان المراد الى محل كرامتي وجعل فلك رفع اليه للتفخيم والتعظيم متولد قوله الى ذاهب الى ربي وانما ذهب إبراهيم صلعم من العراق والشام وقد يقول السلطاني ارضوا هذا الامر إلى القاضي وقديم الحجاج نوار الله وعلى المجارون جيراي الله والمراد من كل ذلك التفخيم والتعظيم تكذلك ههناء