قندیل ہدایت — Page 149
سورہ الم آل عمران - ۳ 149 of 1460 تفسیر القرآن ولتكن منكمامَّةٍ تَدْعُور الے اور تم میں ایک گردہ ہونا چاہئے کہ بلاوے دلوگوں کو) الخيرِ وَيَا مُرُونَ بِالمُعَرُونِ نیکی کی طرف اور اور اپنے کام کرنے کو کسے وينهون عن المنكر وأوليك اور بیے کا متوں سے منع کرے اور وہی لوگ میں فلاح هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَلَا تَكُونَوا پانے والے اور اُن لوگوں کی مانند مت ہو الَّذِينَ تَفَرقُوا وَاخْتَلَفُوا جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا بعد اس کے مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ البيتُ سران کے پانشا نیاں آئیں اور وہی لوگ ہیں کہ اُن وأولئِكَ لَهُمْ عَذَاب عظيم کے لئے بڑا عذاب ہے 0 وقولهم انا قتلنا المية تاقتلنا المیہ کی یہ قوال نقل کیا ہے کہ " یہودی کہتے تھے ہم نے جیسے بن ان کے بیم رسول الله و ما قتلوه مریم رسول خدا کو قتل کر ڈالا حالا تک نہ انہو نے اُن کو قتل کیا بد وما صلبوه ولكن شبه همدان تصلیب پر مارا و لیکن اُن پر (صلیب پر مار ڈالنے کی ) الذين اختلفوانيه لفى شك منه شبیه کرومی گئی اور جو لوگ کہ اس میں اختلاف کرتے ہیں مالهم به من علم الا اتباع الفن البتہ وہ اس بات میں شک میں پڑے میں اُن کو اُس کا ما قتلوه یقینا بل قعد الله المیہ یقین نہیں ہے بجز گمان کی پیروی کے انہوں نے (سوره نساء آیت ١٥) اُن کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے اپنے پاس اُن کو اُٹھا لیا ہے پہلی تین آیتیوں سے حضرت کیسے کیا اپنی موت سے وفات پا نا علانیہ ظاہر ہے مگر جو کہ علما نے اسلام نے یہ تقلید بعض فرق نصارے کے قبل اس کے کو مطلب قرآن مجید پر غور کریں تسلیم کر لیا تھا کہ حضرت عیسے زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں ، اس لئے انہوں نے ان آیتوں کے بعض الفاظ کو اپنی غیر حق تسلیم کے مطابق کرنے کو بیجا کوشش کی ہے ؟ پہلی آیت میں صاف لفظ " متوفيك کا واقع ہے جس کے معنی عموما قام پر موت کے لئے جاتے ہیں ، خود قرآن مجید سے اس کی تفسیر پائی جاتی ہے جہاں مانے فرمایا ہے ، الله يتوفى الانفس حين موتها ابن عباس اور محمد ابن اسحق نے بھی جیسے ر تفسیر کبیر میں لکھا ہے ، متوفيك " کے معنی " میت کے لئے ہیں ؟ یہی حال لفظ " توفیقنی کا ہے جو دوسری آیت میں ہے اور جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ جب تو نے مجھ کو موت دی یعنی جب میں مرگیا اور اُن میں نہیں رہا تو تو اُن کا نگهبان تھا - پہلی آیت میں اور چوکھتی آیت میں لفظ ، دفع » کا بھی آیا ہے جس سے حضر کیسے ۴۲۹