قندیل ہدایت — Page 1376
1376 of 1460 لوقا ۵۳:۱۲ 1049 دولتمند نہیں بنتا اس کا بھی یہی حال ہوگا۔فکر نہ کرو ۲۵ رہی ۱۰۴۹ دوسرے یا تیسرے پہر میں آکر اپنے نوکروں کو خوب پو گس پائے تو اُن کے لیے کتنی اچھی بات ہے۔۳۹ لیکن یاد رکھو کہ اگر ۲۲ تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا: یہی وجہ ہے کہ گھر کے مالک کو چور کے آنے کا وقت معلوم ہوتا تو وہ بیدار ہتا اور میں تم سے کہتا ہوں کہ نہ تو اپنی جان کی فکر کرو کہ تم کیا کھاؤ گے نہ اپنے گھر میں نقب نہ لگنے دیتا۔۴۰ پس تم بھی تیار رہو کیونکہ جس اپنے بدن کی کہ تم کیا پہنو گے ۲۳ کیونکہ جان خوراک سے اور بدن گھڑی تمہیں خیال تک نہ ہوگا ابن آدم آجائے گا۔پوشاک سے بڑھ کر ہے۔۲۴ کو وں کو دیکھو جو نہ تو بوتے ہیں نہ ۴۱ پطرس نے کہا: اے خداوند !یہ تمثیل جو ٹو نے کہی صرف کالتے ہیں، نہ ان کے پاس گودام ہوتا ہے نہ کھتا، تو بھی خدا انہیں ہمارے لیے ہے یا سب کے لیے ہے؟ کھلاتا ہے۔تم تو پرندوں سے بھی زیادہ قدر و قیمت والے ہو۔۴۲ خداوند نے کہا: کون ہے وہ دیا نتار اور عقلمند منظم جس کا تم میں کون ایسا ہے جو فکر کر کے اپنی عمر میں گھڑی بھر کا بھی مالک اُسے اپنے گھر کے نوکر چاکروں پر مقرر کرے تا کہ وہ انہیں اضافہ کر سکے ؟ ۲۲ پس جب تم یہ چھوٹی سی بات بھی نہیں کر سکتے تو اُن کی خوراک مناسب وقت پر بانٹتا ہے؟ ۳ وہ نوکر مبارک ہے باقی چیزوں کی فکر کس لیے کرتے ہو۔جس کا مالک آے تو اُسے ایسا ہی کرتے پائے۔۴۴ میں تم سے سچ ۲۷ سوسن کے درختوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں؟ وہ کہتا ہوں کہ وہ اپنی ساری ملکیت کی دیکھ بھال کا اختیار اس کے نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتے ہیں تو بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان سپرد کر دے گا۔۴۵ لیکن اگر وہ نو کر اپنے دل میں یہ کہنے لگے کہ بھی اپنی ساری شان و شوکت کے باوجود اُن میں سے کسی کی طرح میرے مالک کے آنے میں ابھی دیر ہے اور دُوسرے نوکروں اور ملبس نہ تھا، ۲۸ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور نوکرانیوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دے اور خود کھا پی کر نشے میں دھت کل تنور میں جھونکی جاتی ہے ایسی پوشاک پہناتا ہے، تو اسے کم ایمان رہنے لگے " اور اُس نوکر کا مالک کسی ایسے دن جب کہ نوکر کو اُس والو! کیا وہ تمہیں بہتر پوشاک نہ پہنائے گا ؟۲۹ اور اس فکر میں مبتلا کے آنے کی امید نہ ہو اور کسی ایسی گھڑی جس کی اُسے خبر نہ ہو واپس مت رہو کہ تم کیا کھاؤ گے اور کیا پیو گے اور نہ شکی بنو۔۳۰ کیونکہ آجائے تو وہ اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا اور اُس کا انجام دنیا کی ساری قومیں ان چیزوں کی جستجو میں لگی رہتی ہیں لیکن تمہارا بے ایمانوں جیسا ہوگا۔باپ جانتا ہے کہ تم ان چیزوں کے محتاج ہو۔اس بلکہ پہلے خدا کی ۴۷ لیکن وہ نوکر جو اپنے مالک کی مرضی جان لینے کے باوجود بادشاہی کی تلاش کر و تو یہ چیزیں بھی تمہیں حاصل ہو جائیں گی۔بھی تیار نہ رہے گا اور نہ ہی اُس کی مرضی کے مطابق عمل کرے گا تو ۳۲ے چھوٹے گلے !ڈرمت! کیونکہ تمہارے باپ کی خوشی بہت مارکھائے گا۔۴۸ مگر جس نے اپنے مالک کی مرضی کو جانے اسی میں ہے کہ وہ تمہیں بادشاہی عطا فرمائے۔۳۳ اپنا مال و اسباب بغیر مار کھانے کے کام کیے وہ کم مار کھائے گا۔پس جسے زیادہ بیچ کر خیرات کر دو اور اپنے لیے ایسے بڑے بناؤ جو پرانے نہیں ذمہ داری سونپی جائے گی اُس سے امید بھی زیادہ کی جائے گی اور ہوتے یعنی آسمان پر خزانہ جمع کرو جو خالی نہیں ہوتا، جہاں چور نہیں جس کے پاس زیادہ جمع کرایا جائے گا اُس سے طلب بھی زیادہ ہی کیا پہنچ سکتا اور جسے کیڑا نہیں لگتا۔۳۴ کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے جائے گا۔و ہیں تمہارا دل بھی ہوگا۔۹ میں زمین پر آگ بھڑ کانے آیا ہوں۔اگر بھڑک چکی ۳۵ خدمت کے لیے کمر بستہ رہو اور چراغ جلائے رکھو۔ہوتی تو اچھا ہوتا ۵۰ لیکن مجھے ایک بپتسمہ لینا ہے اور جب تک ۳۶ ان آدمیوں کی طرح جو اپنے مالک کے شادی کی ضیافت سے لے نہیں لیتا میں بہت بے چین رہوں گا۔۵۱ کیا تم یہ سوچتے ہو کوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں تا کہ جب وہ آئے اور دروازہ کھٹکھٹائے کہ میں زمین پر صلح قائم کرانے کے لیے آیا ہوں؟ نہیں، میں تو تو فوراً اُس کے لیے دروازہ کھول دیں۔۳۷ وہ نوکر مبارک ہیں کہوں گا کہ جدائی کرانے۔۵۲ کیونکہ اب سے ایک گھر کے ہی جنہیں اُن کا مالک اپنی واپسی پر جاگتا پائے۔میں تم سے سچ کہتا پانچ آدمیوں میں مخالفت پیدا ہو جائے گی۔دو تین کے مخالف ہو ہوں کہ وہ خود کمر بستہ ہو کر انہیں دستر خوان پر بٹھائے گا اور پاس جائیں گے اور تین دو کے۔۵۳ باپ بیٹے کے خلاف ہو جائے گا آکر اُن کی خدمت میں لگ جائے گا۔۳۸ اگر مالک رات کے اور بیٹا باپ کے ، ماں بیٹی کے اور بیٹی ماں کے۔ساس بہو کے چوکس رہو صلح یا جدائی