قندیل ہدایت — Page 1324
۱۰۰۵ 1324 of 1460 متی ۱۵:۲۸ 1005 خدا! اے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ زندہ ہو گیا ہے۔یہ بعد کا فریب پہلے والے فریب سے بھی بُرا ، فریب سے بھی کرا ے جولوگ پاس کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے یہ سنا تو ہوگا۔۲۸ کہنے لگے کہ یہ تو ایلیاہ کو پکارتا ہے تا ہے۔۶۵ پیلاطس نے جواب دیا: تمہارے پاس پہرہ دار موجود تب ایک آدمی دوڑ کر گیا اور اسفنج کو سرکہ میں ڈبو کر لایا ہیں انہیں لے جاؤ اور جہاں تک ہو سکے قبر کی نگہبانی کرو۔چنانچہ اور اُسے ایک سرکنڈے پر رکھ کر یسوع کو پلانا چاہا۔۴۹ بعضوں اُنہوں نے جاکر پتھر پر مہر لگادی اور قبر کی نگرانی کے لیے پہرہ بٹھا دیا۔نے کہا: ذرا ٹھہرو، دیکھیں کہ ایلیاہ اُسے بچانے آتا ہے یا نہیں؟ خداوند یسوع کا زندہ ہو جانا ۵۰ اور یسوع پھر زور سے چلایا اور اُس نے جان دے دی۔سبت کے بعد یعنی ہفتہ کے پہلے دن پو پھٹتے ہی ۵۱) اور ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ کر دوٹکڑے ہو گیا۔مریم مگد لینی اور دوسری مریم قبر کو دیکھنے آئیں۔زمین لرز اٹھی اور چٹانیں نرخ گئیں، ۵۲ قبریں کھل گئیں اور خدا اچانک ایک بڑا زلزلہ آیا کیونکہ خداوند کا فرشتہ آسمان سے کے بہت سے مقدس لوگ جو موت کی نیند سو چکے تھے، زندہ ہو اُترا اور قبر کے پاس جا کر پتھر کولڑھکا دیا اور اُس پر بیٹھ گیا۔گئے۔۵۳ اور قبروں سے نکل کر یسوع کے جی اٹھنے کے بعد مقدس اس کی صورت بجلی کی مانند تھی اور اُس کے کپڑے برف شہر میں داخل ہوئے اور وہاں بہت سے لوگوں کو دکھائی دیئے۔کی طرح سفید تھے۔" پہرہ دار ڈر کے مارے کانپ اُٹھے اور مُردہ ۵۴ جب اُس فوجی افسر نے اور اُس کے ساتھیوں نے جو سے ہو گئے۔یسوع کی نگہبانی کر رہے تھے زلزلہ اور سارا واقعہ دیکھا تو خوفزدہ ہو فرشتہ نے عورتوں سے کہا: ڈرومت، میں جانتا ہوں کہ تم گئے اور کہنے لگے : ی شخص یقیناً خدا کا بیٹا تھا۔یسوع کو ڈھونڈ رہی ہو جو مصلوب ہو ا تھا۔وہ یہاں نہیں ہے بلکہ ۵۵ وہاں بہت سی عورتیں جو کلیل سے یسوع کی خدمت جیسا اُس نے کہا تھا، جی اُٹھا ہے۔آؤ، وہ جگہ دیکھو جہاں وہ پڑا کرتی ہوئی اُس کے پیچھے پیچھے چلی آئی تھیں، دُور سے دیکھ رہی ہوا تھا۔اور جلد جا کر اس کے شاگردوں کو خبر دو کہ وہ مردوں میں ان میں مریم محمد ینی، یعقوب اور یوسیس کی ماں مریم سے جی اُٹھا ہے اور تم سے پہلے گلیل پہنچ رہا ہے۔تم اُسے وہاں دیکھو گے۔دیکھو، میں نے تمہیں بتا دیا ہے۔تھیں۔۰۵۶ ۵۷ ۶۰ ۴ اور زبدی کے بیٹوں کی ماں شامل تھیں۔خداوند یسوع کا دفن کیا جانا اس پر وہ عورتیں خوف اور بڑی خوشی کے ساتھ قبر سے فوراً جب شام ہوئی تو ار متیاہ کا ایک دولتمند آدمی یوسف نام باہر آئیں اور دوڑی دوڑی گئیں تا کہ شاگردوں کو خبر دے سکیں۔آیا جو خود بھی یسوع کا شاگرد تھا۔۵۸ اُس نے پیلاطس کے پاس اچانک یسوع اُن سے ملا اور کہا: سلام! انہوں نے پاس آکر جا کر یسوع کی لاش مانگی۔اس پر پیلاطس نے حکم دیا کہ لاش اُس اُس کے پاؤں پکڑ لیے اور اسے سجدہ کیا۔تب يسوع نے اُن کے حوالہ کر دی جائے۔۵۹ یوسف نے لاش کو لے کر ایک مہین سے کہا: ڈرومت، جاؤ اور میرے بھائیوں سے کہو کہ تکمیل کے لیے سوتی چادر میں لپیٹا * اور اُسے اپنی نئی قبر میں جو اُس نے چٹان روانہ ہو جائیں۔وہ مجھے وہاں دیکھیں گے۔میں کھدوائی تھی رکھ دیا۔پھر وہ ایک بڑا سا پتھر قبر کے منہ پر لڑھکا پہرہ داروں کا بیان رچلا گیا۔" اور مریم مگر لینی اور دوسری مریم وہاں قبر کے سامنے ا بھی وہ عورتیں راستے ہی میں تھیں کہ پہرہ داروں میں سے بعض شہر گئے اور سردار کاہنوں سے سارا ماجرا کہہ سُنایا۔۱۲ اس پر سردار کا نہوں نے بزرگوں سے مل کر مشورہ کیا اور سپاہیوں کو ایک بڑی ۶۲ اگلے دن یعنی تیاری کے دن کے بعد سردار کا ہن رقم ادا کی اور کہا: تم یہ کہنا کہ رات کے وقت جب ہم سورہے تھے اور فریسی مل کر پیلاطس کے پاس پہنچے ۶۳ اور کہنے لگے: خداوند ! تو اُس کے شاگرد آئے اور اسے چرالے گئے۔۱۴ اگر یہ بات حاکم ہمیں یاد ہے کہ اس دھو کے باز نے اپنے جیتے جی کہا تھا کہ میں تین کے کان تک پیچی تو ہم اسے مطمئن کر دیں گے اور تمہیں خطرہ سے دن کے بعد زندہ ہو جاؤں گا۔لہذا حکم دے کہ تیسرے دن بچالیں گے۔۱۵ چنانچہ ساہیوں نے رقم لے لی اور جیسا انہیں تک قبر کی نگرانی کی جائے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اُس کے شاگرد آکر سکھایا گیا تھا ویسا ہی کیا اور یہ بات آج تک یہودیوں میں مشہور لاش کو چرالے جائیں اور لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ مُردوں میں سے ہے۔کر چلا بیٹھی ہوئی تھیں۔قبر کے نگہبان