قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1258 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1258

۱۸۰ 1258 of 1460 استثنا ۱:۱۸ 180 ΙΛ کو اپنے بھائیوں سے بہتر نہ سمجھے اور نہ شریعت سے روگردانی کرے۔تب تھی ٹیم نے کہا کہ ہمیں نہ تو خداوند ہمارے خدا کی آواز سنی پڑے نہ پھر وہ اوراس کی اولاد عرصہ دراز تک بنی اسرائیل پر سلطنت کرتی رہے گی۔کبھی ایسی بڑی آگ ہی دیکھنی پڑے کہ ہم بلاک ہو جا ئیں۔کا ہنوں اور لاویوں کے لیے ہدیے اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، ٹھیک ہی کہتے لاوی کاہنوں کا بلکہ سارے لاوی قبیلہ کا اسرائیل کے ہیں۔۱۸ میں اُن کے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک ساتھ کوئی حصہ یا میراث نہ ہو۔وہ خداوند کے نبی بر پا کروں گا اور میں اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور وہ انہیں وہ حضور میں پیش کی ہوئی آتشین قربانیوں پر گزارا کریں کیونکہ وہی اُن کی سب کچھ بتائے گا جس کا میں اُسے حکم دوں گا۔9 اگر کوئی شخص میرا کلام میراث ہے۔اُن کی اپنے بھائیوں کے بیچ کوئی میراث نہ ہوگی بلکہ جسے وہ میرے نام سے کہے گا نہ سنے گا تو میں خو داس سے حساب لوں گا۔خداوندان کی میراث ہے جیسا اُس نے اُن سے وعدہ کیا ہے۔۲۰ لیکن جو نبی کوئی ایسی بات کہتا ہو جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں جولوگ بیل یا مینڈھے کی قربانی پیش کرتے ہیں اُن کی طرف دیایا کوئی نبی دوسرے معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ جان سے مارا سے کاہنوں کو اُن کا حصہ دیا جائے جس کے وہ حقدار ہیں یعنی کندھا دونوں جائے۔گال اور اوجھ۔" تم انہیں اپنے اناج نئی کے اور تیل کے پہلے پھل اور ۲۱ تم شاید اپنے دل میں یہ کہو کہ جب کوئی پیغام خداوند کی طرف اپنی بھیڑوں اوہ اون دینا جو پہلی بارکتر گیا ہو کیونکہ خداوند تمہارے خدا سے نہ کہا گیا ہو تو اسے ہم کیسے پہچانیں؟ ۲۲ جب کوئی نبی خداوند کے نام نے انہیں اور اُن کی اولاد کو تمہارے سب قبیلوں میں سے چن لیا ہے سے کوئی بات کہے اور وہ وقوع میں نہ آئے یا پوری نہ ہو تو وہ خداوند کی کہی تا کہ وہ ہمیشہ خداوند کے نام سے خدمت کے لیے حاضر ر ہیں۔ہوئی نہیں ہو سکتی۔اس نبی نے وہ بات گستاخی سے کہی ہے۔تم اس سے اگر کوئی لاوی اسرائیل کے کسی شہر میں مقیم ہو اور وہ وہاں سے بڑی خوف نہ کرنا۔م رغبت کے ساتھ کسی ایسی جگہ چلا آئے جسے خداوند نے چُنا ہو تو اپنے سب لاوی بھائیوں کی طرح جو وہاں خداوند کے حضور خدمت کرتے ہیں پناہ کے شہر جب خداوند تمہارا خدا اُن قوموں کو نیست و نابود کر ڈالے وہ 1 بھی خداوند اپنے خداکے نام سے خدمت کرے۔اور جو کچھ انہیں جن کا مکروہ نہیں دے رہاہےاور جب تم ن کو کال چیکو گزر اوقات کے لیے ملے وہ اُس میں برابر کا شریک ہوگا لیکن جور تم اُسے اور اُن کے شہروں اور مکانوں میں بس جاؤ تب تم اس ملک کے بیچوں بیچ اپنے خاندان کی میراث بیچ کر موصول ہو وہ اُسی کی ہوگی۔مکروہ رسوم و رواج جسے خداوند تمہارا خدا تمہارے قبضہ میں دے رہا ہے اپنے لیے تین شہر الگ کر لینا اور اُن تک جانے کے لیے راستے بنانا اور اس ملک کو جسے خداوند ۹ جب تم اس ملک میں داخل ہو جاؤ جو خداوند تمہارا خدا تمہیں تمہارا خدا تمہیں میراث کے طور پر عنایت کر رہا ہے تین حصوں میں تقسیم دے رہا ہے تو وہاں کی قوموں کے مکروہ طریقوں کی تقلید کر نامت سیکھنا۔کرنا تا کہ وہ شخص جس نے کسی کانون کیا ہو وہاں بھاگ جائے۔تم میں کوئی شخص ایسا نہ پایا جائے جو اپنے بیٹے یا یٹی کو آگ کے جو شخص کسی کا خون کر کے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ کر حوالہ کر دے اور غیب دانی اور جادو گری اور فالگیری یا سحر طرازی کرتا ہو وہاں چلا جائے اُس کے بارے میں یہ باتیں مد نظر ر ہیں کہ اس شخص نے ی منتر پڑھنے والا ہو یا بدروحوں سے واسطہ رکھتا ہو یا مردوں سے مشورہ اپنے پڑوی کونا دانستہ طورپر اور بغیر کسی پرانی عداوت کے خیال سے مارڈالا کرتا ہو۔" جو جو شخص ایسے کام کرتا ہے وہ خداوند کے نزدیک قابل نفرت تھا۔مثلاً کوئی شخص اپنے پڑوسی کے ساتھ جنگل میں لکڑی کاٹنے کے ہے اور خداوند تمہارا خدا ایسے مکروہ کام کرنے والی قوموں کو تمہارے سامنے لیے گیا اور جوں ہی اُس نے درخت کاٹنے کے لیے کلہاڑا گھمایا کلہاڑا سے نکال دے گا۔" تم خداوند اپنے خدا کے سامنے بے عیب رہو۔نین ناف کے سامنے بے عیب دستے سے اچھل کر اس کے پڑوسی کو جالگا اور وہ مر گیا۔وہ شخص اُن شہروں میں سے کسی شہر کو بھاگ کر اپنی جان بچا سکتا ہے۔تا کہ ایسا نہ ہونے ۱۳ جن قوموں کے کم وارث ہو گے وہ جادوگروں اور غیب دانوں کی پائے کہ خون کا انتقام لینے والا اپنے جوش غضب میں اس کا تعاقب باتیں سنتی رہی ہیں لیکن تمہیں خداوند تمہارے خدا نے ایسا نہیں کرنے دیا۔کیرے اور شہر سے دور ہونے کے باعث اُسے راستہ ہی میں جا پکڑے اور خداوند تمہارا خدا تمہارے لیے تمہارے اپنے ہی بھائیوں میں سے قتل کر ڈالے حالانکہ وقبل کا سحق یہ تھا کیونکہ اس کے پڑوسی کی ہلاکت میری مانند ایک نبی بر پا کرے گا تم اُس کی بات ضرور سننا۔کیونکہ اس کے ایک غیر ارادی فعل کا نتیجہ تھی۔اس لیے میں تمہیں یہ حکم دیتا یہی درخواست تم نے جواب میں اجتماع کے دن خداوند اپنے خدا سے کی ہوں کہ اپنے لیے تین شہر الگ کر لینا۔۱۶