قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 122 of 1460

قندیل ہدایت — Page 122

ت القلوب حصہ اول 122 of 1460 اٹھائیسواں باب حضرت عیسی ابن مریم کے حالات اُونی کرتا پہنے ہوئے تھے جس کے اُون کو مریم علیہا السلام نے کاتا اور بنا تھا اور سیا ( ) تھا۔جب حضرت آسمان پر پہنچے خدا کی جانب سے آواز آئی کہ اسے عیسی دنیا کی زینت کو چھوڑ دو۔حدیث موثق میں امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ کسی پیغمبر اور حجت خدا کا قتل ہونا یا مرنا سوائے حضرت عیسی کے لوگوں پر مشتبہ نہیں ہوا کیونکہ وہ زندہ زمین سے اُٹھالئے گئے اور اُن کی رُوح زمین و آسمان کے درمیان قبض کی گئی۔جب وہ آسمان پر پہنچے اُن کی روح پھر اُن کے بدن میں واپس کر دی گئی۔جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ اِلی۔میں نے تم کو وفات دی پھر اپنی طرف بلند کر لیا ) اور حضرت عیسی سے بیان فرماتا ہے۔فلما تو فيَتَنِي كُنتَ اَنتَ الرَّيْبَ عَلَيْهِمُ۔یہ دونوں آیتیں حضرت عیلی کی وفات پر دلالت کرتی ہیں۔بسند معتبر حضرت صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس جس وقت حضرت صاحب الامر علیہ السلام ظہور فرمائیں گے۔نو ہزار فرشتے نازل ہوں گے اور تین سو تیرہ فرشتے جو حضرت بیٹی کے ساتھ تھے جبکہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے۔بہت سی معتبر سندوں سے حضرت امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیہم السلام سے منقول ہے کہ حضرت صاحب الامر میں چار پیغمبروں کی سنت ہے ایک حضرت عیسی کی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سر گئے یا قتل کر دیئے گئے حالانکہ وہ نہ مرے ہیں نہ قتل کئے گئے۔حدیث معتبر میں امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب یہودیوں نے چاہا کہ عیشقی کو قتل کرتیں انہوں نے خدا کو ہم اہلبیت کے حق کی قسم دی تو خدا نے اُن کو قتل سے نجات بخشی اور آسمان پر اُٹھا لیا۔بسند معتبر حضرت صادق " سے منقول ہے کہ حضرت رسول نے فرمایا کہ حضرت عیلی کے بعد ان کی امت بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئی اُن میں سے ایک فرقہ ناجی اور اکہتر جہنمی ہوئے۔دوسری حدیث معتبر میں وارد ہے کہ جناب امیر نے یہودیوں اور عیسائیوں کے سب سے بڑے عالموں کو طلب فرمایا اور کہا کہ میں تم سے ایک بات دریافت کرتا ہوں جس کو تم سے بہتر میں خود جانتا ہوں لہذا حق کو پوشیدہ مت کرنا اور سوره م فضائل حضرت صاحب الامر پ سورہ مائدہ آ Presented by www۔ziaraat۔com