قندیل ہدایت — Page 1022
310 1022 of 1460 www۔kitabosunnat۔com مفردات القرآن۔جلد 2 ( ناقہ نے سوار کو گرا دیا ) وَفَلَوْتُ بِالْقُلَّةِ (میں نے گلی واذ الاغلالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلْسِلُ کو پھینکا ) وغیر ہا محاورات سے مشتق ہوگا۔اور جس چیز (۷۱۴۰) جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور سے دل بوجہ بغض یا نا پسندیدہ ہونے کے اس طرح گھن زنجیریں ہوں گی۔میں پایا جاتا ہے۔کھائے گویا اسے پھینک رہا ہے تو اسے مقلو کہا جائے ق م ) گا۔اور اگر ناقص پائی سے مشتق مانا جائے تو یہ قَلَيْتُ الْقَمْرُ: چاند جب پورا ہو رہا ہو تو اسے قمر کہا الْبُسْرَ وَالسَّوِيْقَ عَلَى الْمِقْلاةِ کے محاورہ سے ماخوذ جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے۔ہوگا جس کے معنی مقلاة (فرائی پین ) میں کھجور اور ستو بعض نے کہا کہ چاند کو قمر اس لیے کہا جاتا ہے وہ ستاروں کی روشنی کو خیرہ کر دیتا ہے اور ان پر غالب آ جاتا ڈال کر تلنے کے ہیں۔ق م ح) ہے قرآن پاک میں ہے: ﴿هُوَ الَّذِي جَعَلَ القمح: خلیل نے کہا ہے کہ قَمْح اس الشَّمْسَ ضِيَاءٌ وَ الْقَمَرَ نُوْرًا (۱۰-۵) وہی تو گیہوں کو کہتے ہیں جو پکنے کے وقت سے لے کر ذخیرہ ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا۔اندوزی تک بالی کے اندر ہی رکھا جائے اور اس گیہوں ﴿وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ (۳۹۳۶) اور چاند کی ه و سے جوستو بنایا جاتا ہے اسے قميحة کہا جاتا ہے۔( بھی ) ہم نے منزلیں مقرر کر دیں۔(اورستو کی مناسبت سے ) کوئی چیز پھانکنے کے لیے سر اوپر وَانْشَقَّ الْقَمَرُ (۱۵۴) اور چاند شق ہو گیا۔اٹھانے کو الْقَمْحُ (ف) کہتے ہیں۔پھر محض سراٹھانے پر وَالْقَمَرِ إِذَا تَلْهَا﴾ (۲۹۱) اور چاند کی جب اس (خواہ کسی وجہ سے ہو قمح کہا جانے لگا ہے۔چنانچہ کہا کے پیچھے نکلے۔جاتا ہے فَمَحَ الْبَعِيرُ : اونٹ نے (میری کے بعد حوض كَلَّا وَالْقَمَرِ (۳۲۷۴) ہاں ہاں ( ہمیں) چاند سے سر اوپر اٹھا لیا أَقْمَحْتُ الْبَعِير: میں نے اونٹ کا کی قسم۔سر اونچا کر کے پچھلی جانب باندھ دیا۔اور آیت کریمہ: :القمراء چاند کی روشنی۔چاندنی۔تقمرْتُ فلانا فَهُمْ مُقْمَحُونَ ) (۳۶-۸) تو انکے سرالٹ رہے چاندنی رات میں کسی کے پاس جانا۔ہیں۔میں تشبیہ اور تمثیل کے طور پر ان کو مُقْمَحُونَ کہا گیا قَمَرَتِ الْقِرْبَةُ: چاند کی روشنی سے پانی کی مشک خراب ہے۔اور اس سے مقصود قبول حق سے ان کی سرتابی اور ہوگئی۔سرکشی اور راہ خدا میں خرچ کرنے سے ان کے انکار کو بیان حِمَارٌ أَقمَرُ: چاند کے رنگ۔یعنی سبزی مائل سفید رنگ کرتا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ قیامت کے دن ان کی اس کا گدھا۔حالت کی طرف اشارہ ہے جس کا تذکرہ آیت۔قَمَرْتُ فَلَانًا كَذَا میں نے فلاں کو اس چیز سے دھوکا دیا۔يقال قمرهای غلب عليه في القمار محکم دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ