قندیل ہدایت — Page 756
756 of 1460 کننده العمال حصه سینه و هم ضرور ان دونوں کے سا تمہینہ ملادے گا۔رواه احمد بن حنبل والبخاري ومسلم والنحاني وابن ماجه وابن جرير وابو عوانة وخشيت وابن ابی عاصم والحاكم ۳۶۰۹۳ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ابو بکر میں اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد ثہ رضی اللہ عنہ ہیں۔رواه ابن ماجه والعدني وابو نعيم في الحلية ۳۶۰۹۴ ن ایضا محمد بن حفیہ کی روایت ہے کہ میں نے اپنے والد ( حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا رسول اللہ فرجہ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے عرض کیا۔ان کے بعد کون افضل ہے؟ فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ پھر مجھے خوف ہوا کہ میں پوچھوں کہ پھر کون افضل ہے اور وہ فرما دیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ افضل میں بندا میں نے کہا: اے ابا جان پھر آپ افضل ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہیں۔رواہ البخاری و ابوداود و این ابی عاصم وخشيش وابو نعيم في الحلية ٣٢٠٩٥ ايضا " ابو جنتری کی روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: خبردار! نبی کریم پینے کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما میں ایک شخص نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم تو اہل بیت ہیں ہو را موازنہ کوئی نہیں کرتا۔رواہ ابو نعيم في الحلية ۳۶۰۹۶ اتنا زید بن وھب کی روایت ہے کہ سوید بن غفلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آ کر عرض کیا اے امیرالمؤمنین میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جو ابو بکر وعمر رضی اللہ کا اچھے الفاظ میں تذکرہ نہیں کر رہے تھے چنانچہ آپ رضی الہ عنہ فورا اٹھے اور منبر پر تشریف لائے اور فرمایا قسم اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا اور ذی روح کو پیدا فرمایا: ان دونوں حضرات سے صرف موشن ہو محبت کرتا ہے اور ان سے بغض اور ان کی مخالفت صرف بد بخت اور سرکش ہی کرتا ہے ان دونوں حضرات کی محبت قربت خداوندی کا باعث ہے اور ان سے بغض رکھنا بد بختی ہے بھلا لوگوں کو کیا ہوا جو رسول اللہ ﷺ کے بھائیوں وزیروں صاحبین قریش کے سرداروں اور مسلمانوں کے ابو تین کا تذکرہ کرتے ہیں؟ جو شخص بری نظر سے ان کا تذکرہ کرے گا میں اس سے بری الذمہ ہوں اور اس پر سزا ہوگی۔رواہ ابو نعيم في الجلية ۳۶۰۹۷ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نہیں مجھتا کہ کوئی شخص ابو بکر وعمر رضی اللہ کو گالی دیتا اور پھر اسے کبھی بھی تو بہکی توفیق نصیب ہو۔رواه ابن عساکر ۳۲۰۹۸ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ابوبکر وعم رضی اللہ اس امت میں سب سے افضل ہیں اور پھر تم میں سے جو افضل ہے اسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔رواہ الدار قطنی فی الافراد والأصبهاني في الحجة ٣۶٠٩٩ جعفر بن محمد اپنے والد اور دادا سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ریکا یک ایک طرف سے ابو بکر اور عمر رضی اللہ نمودار ہوئے آپ یہ نے فرمایا: اے اعلی ! یہ دونوں گذشتہ و آئندہ انبیاء مرسلین کے علاوہ اہل جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔۳۱۰۰ ﷺ عبد خیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: رسول کریم عربیہ کے بعد لوگوں میں سب سے پہلے جنت میں کون داخل ہو گا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا یہ حضرات آپ سے قبل جنت میں داخل ہوں گے؟ فرمایا: جی ہاں قسم اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتی ہے اور جان کو پیدا کرتی ہے۔بلا شبہ وہ دونوں حضرات جنت کے پھل کھاتے ہوں گے اس کا پانی پیتے ہوں گے اور اس کے بچھونوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جب کہ میں غمزدہ و پریشان حساب کے لیے کھترا ہوں کا اللہ تعالی کے حضور سب سے پہلے جھگڑا لے کر جانے والے میں اور معاویہ ہوں گے۔رواہ العشاري والأصبهاني في الحجة وابن عساكر حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس شخص نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے محبت کی وہ قیامتہ کے دن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہو گا اور جہاں ابو بکر رضی اللہ عنہ جانا چاہیں گے وہ بھی ان کے ساتھ جائے گا اور جو شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرے گا وہ بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلے گا جس شخص نے عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت کی وہ بھی ان کے ساتھ ہوگا اور جس نے ان لوگوں کے