قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 685 of 1460

قندیل ہدایت — Page 685

685 of 1460 ابلیس نے آکر حوا سے خناس طلب کیا اور جب آپ نے پور اواقعہ اس کے سامنے بیان کیا تو اس نے خناس کو آواز دی اور اس کے ٹکڑے یکجا مجتمع ہو کر اصلی شکل میں آموجو ، ہوئے۔دوہ واحد اور کر کے ابلیس اس کہ آپ کے سپرد کر کے چلا گیا اور جب حضرت آدم نے واپس اگر پھر خناس کو موجود پایا تو حضرت حوا پر بہت بگڑے اور خناس کو قتل کر کے جلادیا اور نصف راکھ ہوا میں اڑا کر نصف پانی میں بہادی۔پھر جب آپ چلے گئے تو ابلیس نے آکر پھر حوا سے خناس کو طلب کیا اور جب آپ نے پورا واقعہ سناد یا تو اس نے خناس کو پھر آواز دی اور وہ اپنے اصلی روپ میں آموجود ہوا۔تیسری مرتبہ پھر اصرار کر کے ابلیس نے خناس کو آپ ہی کے سپرد کر دیا لیکن اب کی مرتبہ حضرت آدم نے اس کو دن کر کے گوشت پکا یا اور آدھا خود کھایا اور آدھا حوا کو کھلا دیا۔لیکن میہ واقعہ معلوم کر کے اہلیس نے اظہار مسرت کے ساتھ کہا کہ میری بھی اسکیم یہی تھی کہ کسی خناس کا گوشت سینہ انسانی میں نفوذ کر جائے اس لئے باری تعالی فرماتا ہے کہ۔یعنی وہ خناس جو انسانی سینوں میں وسوسہ پیدا کرتا ہے ارشادات - آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب تک بندے میں نفس کی ایک رمق بھی باقی ہے اس کو آزادی میسر نہیں آسکتی۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ جس کو اپنی جانب مد عو کرتا ہے اسی کو مراتب بھی عطا ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے کہ جس کو اللہ چاہتا ہے برگزیدہ بنا کر ہدایت عطا کرتا ہے۔پھر فرمایا کہ بر گزیدہ لوگ وہ لوگ ہیں جو جذبہ حق میں فنا ہو جائیں اور اہل ہدایت وہ ہیں جو تائب ہو کر خدا کا راستہ تلاش کریں، فرمایا کہ مجذوب کے بھی کئی مدارج ہیں پہلے درجہ میں تہائی نبوت حاصل ہوتی ہے دوسرے میں نصف اور تیرے میں نصف سے کچھ زیادہ اور جب وہ مدارج نبوت طے کر کے تمام مجدد بین پر سبقت لے جاتا ہے تو خاتم الاولیاء ہو جاتا ہے۔حضرت مصنف فرماتے ہیں کہ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ وہ ولی کو درجہ نبوت کیسے حاصل ہو سکتا ہے تو جواب یہ ہے کہ حضور اکرم کا یہ ارشاد ہے ” میانہ روی اور رویائے صادقہ نبوت کے چومیں حصوں میں سے ایک ہے اور جذب بھی جزء پیغمبری ہے اور دونوں اوصاف مجذوب میں بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں۔فرمایا کہ اولیاء فاقہ کشی سے نہیں ڈرتے بلکہ خطرات سے خوفزہ رہتے ہیں۔فرمایا کہ جن لوگوں میں کلام اللہ سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو وہ دانش مند نہیں ہوتے۔فرمایا کہ قیامت میں حق العباد کا مواخذہ نہ ہونے کا نام تقویٰ ہے۔فرمایا کہ شجاعت نام ہے محشر میں خدا کے سوا کسی سے وابستہ نہ ہونے کا اور صاحب عزت وہی ہیں جس کو گناہوں نے ذلیل نہ کیا ہو اور آزاد وہ ہے جس کو حرص نہ ہو اور امیر وہ ہے جس پر ابلیس قابض نہ ہو سکے اور دانش مندوہ ہے جو صرف خدا کے لئے نفس کا مخالف ہو۔فرمایا کہ خدا سے خائف رہنے والا اسی کی طرف رجوع کرتا ہے حلانکہ جس نے سے خوف پیدا ہو اس سے دور رہا