قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 595 of 1460

قندیل ہدایت — Page 595

595 of 1460 ۲۴۵ فضائل عشر مشکواۃ شریف مترجم جلد سوم خير النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فقال ابوبکر بہترین لوگوں کے رسول للہ صلی الہ علیہ وسلم کے بعد ابو بکرہ نے کیا معرفہ اتم أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَلِكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُول اللہ صلے اللہ علیہ نے مجھ کو اس خطاب سے مخاطب کیا ہے تو میں تم کو آگاہ کرتا ہوں کہ میں نے وَسَلَّمَ يَقُولُ فَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رجل خير من محمد دوائی رسول اله صلی الہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے آفتاب کسی ایسے شخص پر طلوع الترمذي وَقَالَ هَذَا حَدِيثُ غَرِيبٌ۔نہیں ہوا جو عرض سے بہتر ہو۔( ترندی یہ حدیث غریب ہیر) ودرد حضرت عمر کی انتہائی منقبت کی انتہائی ه عَامِرٍ عَلَيْهِمْ وعن محبة ابن عامر قال قال الله صل اللہ علیہ وسلم کو حضرت عقبہ رض بن عامرض کہتے ہیں کہ رسول اثر صلی اﷲ علیہ وسلم بعد نبى لكان عمر بن الخطاب ان اليمني وقال هذا حدث نے فرمایا ہے اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرفہ ہوتا۔و ترندی) حضرت عمرہ کا وہ روب دوبر بہ جس سے شیطان بھی خوفزدہ رہتا تھا 4 وعن بُرَيْدَكَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ الله صلے الله حضرت بریدہ رضہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کسی فردہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا الْخَرنَ جَاءَتْ میں تشریف لے گئے تھے جب وہاں سے واپس آئے تو آپی خدمت میں ایک جَارِيَة سوداء فَقَالَتْ يَا رَسُولَ الله اني كنت سیاہ دیشی لڑکی حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! نہیں نے یہ نذرمانی نذارت إِن رَدَّكَ اللهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ بين يديك تھی کہ جب آپ غزوہ سے کامیاب ہو کر واپس تشریف لائینگے تو میں آپ بِاللَّاتِ وَالْفَتَى فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صلى الله علیہ کے سامنے دف بجا کر گاؤں گی۔آپنے فرمایا۔اگر تو نے نذر مانی ہے تو دف وَسَلَّمَ إِن كُنتِ نَذَرُتِ فَاضْرِ بِي وَإِلَّا فَلا تجعلت بجا بچنا نچہ اس لڑکی نے دف بجانا شروع کیا وہ دف بجا رہی تھی کہ ابو بکریہ نَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضُرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلَى آگئے اور وہ دن بچاتی رہی پھر لینے آئے اوروہ دن بیجاتی رہی، پھر عثمان آئے وَهِيَ تَضْرِبُ تُم دَخَلَ عُثْمَانَ وَهِی تخرب تریر اور دن کھاتی رہی، پھر عمرہ آئے تو اس لڑکی نے دن کجا نا چھوڑ کردن کواپنی سرمیوں سے دَخَلَ عُمَرُ نَا القَتِ الدُّنَ تَحْتَ اِستِها تمر قعدت نیچے رکھ لیا اور اس پر بیٹھ گئی بی صلی الہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا عرب الشیطان عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَہ وَسَلَّم تم سے ڈرتا ہے دیاں شیطان سے مراد دف بجانے والی لڑکی ہے ہیں اِنَّ الشَّيْطَانَ لَيخَانُ مِنْكَ يَا عمر اني كنت جالسا بیٹھا ہوا تھا اور یہ لڑکی دف بجا رہی تھی کہ ابو بکر نہ آئے اور یہ دن بجاتی رہی وَهِيَ تَضْرِبُ نَدَخَلَ أبو بكرٍ وَهِيَ تَضرب تو پھر علی آئے اور وہ دف بجاتی رہی۔پھر عثمان ہو اور وہ دف بجانے میں مشغول دَخَلَ عَلَى وَهِيَ نَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثمان دھتی رہی۔اور پھر تم آئے تمکو دیکھتے ہی اس نے دن کو پھینک دیا۔تضرب فَلَمَّا دَخَلْتَ اَنْتَ يَا عُمَرُ القَتِ ( ترندی یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ) الدُّنَ مَرَوَاهُ النَّرْمِنِى وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ عَريب - جلال ناروقی رضا ه وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى حضرت عائشہ رض کہتی ہیں کہ رسول خدا صلی الہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَمِعْنَا لَغَطًا وصوت تھے کہ ہم نے ایک غیر مفہوم سخت آواز سنی اور پھر بچوں کا شور و غل سنائی دیا صِبْيَانِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَليهِ وسلَّم رسول الله لا اله علیه وسلم یہ سکر کھڑے ہو گئے اور باہر تشریف لے جا کر دیکھا فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تَزينُ والصَّبيان حولها تو ایک پیشی عورت اچھل کو درہی تھی اور بچے اسکے گرد تھے بنی صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ يَا عَائِشَةُ تَعَالَى فَانظُرِى محنت ووضعت نے یہ دیکھ کر فرمایاد عا کشد ! ادھر آؤ تم بھی دکھو۔چنانچہ مں گئی اور آپکے پیچھے کھڑے نَحتُتُ فَوَضَعُ لحي على مُنكَبِ رَسُولِ اللهِ صلى الله علیہ وسلم ہو کر اپنی ٹھوڑی رسول الہصلی الہ علیہ سلم کے کاندھے پر رکھ لی اور میں نے فَجَعَلْتُ أنظرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ السناب إلى تأسیہ کندھے اور سر کے درمیان سے اس عورت کو دیکھنا شروع کی تھوڑی پر بعد رسول