قندیل ہدایت — Page 449
449 of 1460 چ تفی قادری حسب له دوم تالہ پوچھے خدا W اثل تا روحي سعيرة الاحزاب هيم وموسى وعيسى ابن مريم اوران سب پیر اس سے بھی عہد لیا ن کا ذکر ہوا آن پیٹرن کے ما الصلوة وال عیسی مرید ی یا اولوالعزم میں دور ہمارے رسول کریم علیہ اسے ن محتاقاً Br نات العم الصدقين مینی بغیر اسے حسن صید قهر او کی سچائی اس بات میں جوا و نمو نے اپنی قوم سے کہی یا قوم کی تصدیق کا مال کو دونوں ان بیان کی تصدیق کی وآقا اور تیار کی ای خدا نے الکفرین کافروں کے واسطے جو رسولوں کا ایمان نہیں لائے عن ابا العمان عذابے کے دینے والا یا نام الَّذِينَ آمَنُوا الامان الواذْكُرُو کو یاد کرو نعمة الله عليكم نعمت اللہ کی جو ا سنے انعام کی تمپر انحاء حکم دیا۔غطفان کنانه سیودو۔۔#COL 54b وو ہوا کواس سے باد صبا مراد و وجنود المتروها، اور وہ لشکر جنکو سنے نہیں دکھا مینی فرشتے وكان الله او پر خدا بما تعملون مے س چیز کے جوتم کرتے ہو بھی تیران دیکھنے والا اس آیت میں جنگ احباب کا بیان ہر اور ملاوہ قلی سطح پر توکه بی نصیری جلا وطن کرنے کے بعد یحیی بن اخطب یہود کے ایک گروہ کے ساتھ کہ میں گیا اور ابو سفیان اور اوسکے تابعوں سے رسول مقبول صلی اللہ علیہ الروسا کے ساتھ مقابلار مقاتل کرنے پر عہد باندھا اور قریشی اور علما حب میں نے جس بہار سے زیادہ جمع کرکے مدینی منورہ کی طرف عازم ہوای خرحضرت رسول اکرم صلالہ علیہ آلہ سل کو پانی مدینہ منورہ سے تین ہزار آدمی لیکر آپ وانہ ہوے اور آیا لشکر گاہ جیل ساخ کے سائے تقومہ اوران سب سلمان اوتری آپنے کانوں سے مقابلہ کرنے کے باب میں اصحا سے مشورہ کیا و شارمین به اور ہتھیاروں سے آراستہ تھے حضرت سلیمان صلی اللہ عنہ خندقون کی ضع سے واقف تھے کہ علم کے شہروں میں ہوتی ہیں ان کا کچھ حال بیان کیا حضرت کی راے عالی نے او سے قبول فرمایا ن تقسیم فرما دی اور خندق کھودنے کا اشارہ فرمایا اوس HI 74 ں کام میں مشغول ہے حضرت علی اسد علیہ آر سی بھی تہ نہیں مٹی کھانے میں مشغول تھے اورصحابہ کوفتح کی خوشخبری دیتے اور میں زبان مبارک پری دعا جاری بھی لا اله ان العيش عيش الأخيرة كاتير المهاجرين والانتصار اس تامین ایک بہت برایش خندق امین رموالکتروغیرہ اوپر کام کرتا تھا سی اپنے حضرت کو ہر کی آب تجہ کے قریب تشریف لائے اور کملا دست مبارک میں لیا بہر اس کو کر ر کدال را مشکل تھا یہی ٹوٹا اورایک نو بلی کی طی چم کا اس روشنی میں نظر مبارک ملک شام کے محلوں پر پڑی اپنی پتے الارشام کی بیان مجھے امین بارات اوس پھر کالا لتھوانیا اور وری کا اوسین ملک پینے محل حضور ناظر ے اپنے کرایا کہ اداکابرین کی کیا سی بی اختیاری این میری رتب تمام مت ٹوٹ گیا اور بت نوار سی سے چمکا کیسی ہے قبض اونچے اونچے مکانات آپکو اوس نو مین نظر آئے فرمایا کہ امر اکبر فار سے ملک میرے قبضہ قدرت میں آئے منافق ہوے کہ یہ مر خلق کوم دیتا ہے دشمنوں کے خون سے آج تو خندق کو تاہ اور ما تاریں وڈی اور شام فتح کرنے کاوعدہ کرتا ہے ونکہ چھ دن میں خندق کی حم ئی اور خندق کھو چکی تو شمشون کا لشکر ہان پہونچا الکین عوت اور عتبہ بن حصان غلطان اور قرازہ اور ریڈ اوس سیدان کے