قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 161 of 1460

قندیل ہدایت — Page 161

161 of 1460 شعار مستور حضرت عیسی موجود ہے۔وفات کے معنی ہیں اس طرح پورا ہو جاتا دیا پورا کر دیا جانا کہ اس میں سے کچھ بھایا نہ رہے تفصیل کے لئے میری لغات القرآن دیکھتے۔لہذا وفات کے معنی ہوں گے کسی کے وقت کا پورا ہو جاتا“ یعنی دنیا میں قیام کی مدت کا پورا ہو جانا بر آن کریم میں وفات کا لفظ ان معنوں میں متعدد مقامات پر ستعمل ہوا ہے۔سورہ آل عمران میں مومنین کی ایک دعا مذکور ہے کہ رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَ كَفَرُ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الابرارة (۳/۱۹۳) پس خدایا ہمیں سامان حفاظت عطا فرما دے۔ہماری برائیاں مٹادے اور (اپنے فضل کرم سے ایسا کر کہ ہماری موت نیک کرداروں کے ساتھ ہو۔یہاں تو فنا کے معنی ظاہر ہیں۔اسی طرح سورہ اعراف میں ہے۔ربنا افرغ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ( ) پروردگار ! ہمیں صبر و شکیبائی سے معمور کر دے تاکہ زندگی کی کوئی اذیت ہیں اس راہ میں ڈگمگا سکے اور ہمیں دنیا سے اس حالت میں اٹھا کہ تیرے فرماں بردار ہوں ! حضرت یوسف کی یہ دعا كه توشى مُسلِماً وَ الحِقْنِي بالصَّلِحنين۔(۱۳/۱۱) بھی اسی مفہوم کو لئے ہوئے ہے۔سورۃ محمد میں اس لفظ کے معنی اور کبھی واضح ہو گئے ہیں۔FZ فَكَيْفَ إِذَا تَوَثَتُهُمُ المَلئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ ) تو د غور تو کرو ان کا کیسا محال ہو گا جب ملائکہ انہیں وفات دیں گے ان کے مونہوں اور ان کی پیٹھوں کو مارتے ہوں گے۔ان کے علاوہ کئی ایک اور مقامات بھی ہیں جن میں متوفی کے معنی مار دینے کے ہیں، مثلاً (۲/۲۳۲): ۲/۲۴۰۱ : ۴/۱۵: ۱۱۹/۷۰ ۲۲/۵ : ۳۲/۱۱)۔بغرض اختصار ان آیات کو درج نہیں کیا جاتا۔قرآن کریم میں خود دیکھ لیجئے۔ان کے معانی میں کسی قسم کا اشکال نہیں، بلکہ ان مندرجہ صدر آیات سے بھی زیادہ واضح طور پر معائی سامنے آجاتے ہیں۔اب ان مقامات کو پھر سے سامنے لایئے جن میں حضرت جینے کی وفات کا ذکر ہے اور جو پہلے درج کی جاچکی ہیں۔(یعنی ۳/۵۲ : ۱۵/۱۷- سورۃ مائدہ کی آیت ۵/۱۱۷۱) میں کہا گیا ہے کہ كُنتُ عَلَيْهِمْ