قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1400 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1400

1400 of 1460 ۴۶۴ سائدة هـ تم ان كثيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذلِكَ فِي الْأَرْضِ لَسْرِفُونَ ، اتنا پھر بھی بہت سے لوگ ان میں سے اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں جزوا الذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ دوده سنزا ان لوگوں کی جو جنگ کرتے ہیں اے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں کے زمین میں فَسَادًا أَنْ يُقَتَلُوا أَو يُصَلَّبُوا وَ تَقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ فساد برپا کرنے کی یہ ہے کہ انھیں (چھن چن کر قتل کیا جائے پائولی دیا جائے یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور اُن کے پاؤں مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْقَ فِي الدُّنْيَا مختلف طرفوں سے یا جلا وطن کر دیتے جائیں کے یہ تو ان کے لیے رُسوائی ہے دنیا میں کی اذیت رسانی اور آپ کے خلاف ناپاک سازشیں کرنے سے باز آئیں گے۔اس مملکت اسلامیہ کے گوشہ گوشہ میں امن قائم کرنے راستوں کو محفوظ بنانے اور فتنہ و فساد کی جڑ کاٹنے کا حکم اللہ تعالئے اور اس کے رسول معظم نے دیا ہے۔جو اس حکم کی خلاف ورزی کر کے قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم کرتا ہے وہ گویا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف علم بغاوت بلند کر رہا ہے اس لیے قرآن کریم نے مملکت اسلامیہ کے کسی باشند سے پر خواہ وہ مسلمان ہو یا ذقی دست درازی کرنے کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے سے تعبیر کیا ہے۔و او تفسیر یہ ہے۔پہلے جملہ یں جن محاربہ کا ذکر ہوا اس کی وضاحت فرما دی۔سے محاربین جن کی سزائیں یہاں بیان کی گئی ہیں وہ کون ہیں ؟ ان کے متعلق فقہاء کرام نے کہا ہے کہ جن میں یہ تین شرطیں پائی جائیں وہ محارب ہیں۔(۱) وہ بندوق، تلوار، نیزہ وغیرہ ہتھیاروں سے مسلح ہوں۔(۴) آبادی سے باہر راستہ یا صحرا میں وہ رہزنی اور ڈاکہ کا ارتکاب کریں لیکن امام شافعی اوزاعی اور لیث رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہر یں ڈاکہ ڈالنے والے بھی محارب کہلائیں گے اور انھیں سزاؤں کے مستحق ہوں گے (۳) وہ چھپ کر نہیں بلکہ برملاحملہ آور ہو کر کورٹ مار کریں۔ایسے لوگوں کے لیے قرآن نے چار سزائیں مقرر کی ہیں۔(1) انھیں قتل کر دیا جائے باب تفعیل تقبیل تشدید اور مبالغہ کے لیے ہے یعنی مقتول کے وارث اگر معاف بھی کر دیں تو بھی انھیں قتل کیا جائے گا کیونکہ مدعی حکومت ہے جو عوام کی نمائندہ ہے۔یہ مقتول کے وارثوں کا نجی معاملہ نہیں رہا (۲) انھیں سولی دے دیا جائے۔(۳) اُن کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔(۴) یا اُنھیں قید کر دیا جائے۔بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ ان فقروں کے درمیان او ایام کا کلمہ تخییر ۴۶۴۴ جلد اول)