قندیل ہدایت — Page 139
۱۵ ر حقانی سورة نار 139 of 1460 ۲۲۵ يارة لا يحب الله کرتا ہے۔تیسرا فرقہ جسم اور روح دونوں سے صلیب پانا بیان جو اخذ ہے تقدیرہ ما من اهل الكتاب احد الا ليو ميتين استنفار کرتا ہے۔بلکہ بعض فرقے یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح کو صلیب نہیں متصل ہے۔ہوئی بلکہ کسی دوسرے شخص کو، یہودی جھوٹی مشینی ہے۔ہیں۔بعض علماء کہتے ہیں کہ خود یہود کو اختلاف تھا کیونکہ جب اُنھوں نے مسیح کو مکان میں بند کیا تو اُن کو خداللہ پہلی آیتوں میں یہود کے فضائی اور قبا نیچ ذکر ہوتے تھے نے چھت پھاڑ کر آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی شکل میں ایک اور اس کی بھی تشریح تھی کہ انھوں نے مسیح علیہ السلام کے پر یہودی کو کر دیا وہ دار پر کھینچا گیا۔چونکہ اس کے افشار ساتھ جو کچھ ذلت و خواری جینے کا ارادہ کیا تھا وہ اس میں کرنے میں حضرت مسیح کے کمالات کا اظہار تھا اس لئے کہو ناکام رہے خدا تعالے نے ان کو اس کے بالعوض عربات دی نے کہدیا کہ ہم نے خود مسیح کو قتل کیا۔یہ سدی " کا قول ان کو آسمان پر بلایا۔اب اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السّلام ہے اس کی تصدیق بھی اناجیل کے بعض فقروں سے ہوتی کی ایک اور بڑی عزت و شوکت کی خبر دی جاتی ہے ہر اہل ہے جیسا کہ اوپر گزرا اور خود قرآن کی یہ آیت کہ رہی ہے وہ کتاب ان کی موت سے پہلے ضرور ان پر ایمان لائے گا جبکہ قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیز حکیماً۔ان کی شوکت اور جلال دیکھیں گے اور پھر قیامت کو وہ آج کل عیسائی حضرت مسیح کے مصلوب ہونے کو ان پر گواہی دیں گے قبل موتہ کی ضمیر میں علماء کے دو قول ہیں ، اپنی کتابوں اور مورخوں کے اقوال سے زور دے کر ثابت کیا ایک شہر بن حوشب وغیرہ کا وہ کہتے ہیں کہ موتہ کی ضمیر اہل کرتے ہیں اور اس پر یہود کی گواہی بھی لاتے ہیں لیکن اس کا کتاب کی طرف پھرتی ہے اس تقدیر پر یہ معنے ہوتے کہ ہرا ہل جواب پہلے ہو چکا اور اگر ہم اُن کے قول کو تسلیم بھی کر لیں تو کتاب اپنی موت سے پہلے ضرور ان پر یعنی حضرت مسیح علیہ قرآن مجید کی آیت ما قتلوه و ما صلیوں اور بل رفعہ اللہ الیہ السلام پر ایمان لائے گا۔اہل کتاب کا لغو می معنے کے لحاظ سے کے معنے عیسائیوں کے اول گروہ کے مطابق بھی ہو سکتے ہیں یہود اور نصاری اور اہل اسلام سب پر اطلاق ہو سکتا ہے که در اصل جو عیسی یعنی روح منور تھی نہ اس کو انھوں نے ان میں سے نصاری اور اہل اسلام تو حضرت مسیح پر موت قتل کیا نہ سولی دی بلکہ وہ روح خدا تعالے کے پاس پہنچی۔سے پہلے اپنی زندگی میں ایمان رکھتے ہیں اور پہلے بخروج مگر جمہور اہل اسلام اس کے قائل نہیں، واللہ اعلم بھی لیا جائے تو ان کے بارہ دیگر قرب قیامت کے دنیا میں تشریف وَإنْ مِّنْ أَهل الكتب الا ليو متن لانے پر بھی ان کا ایمان ہے۔رہے یہود سوائن کی نسبت یوں تو جیہ کرنی پڑے گی جب وہ اور اس کی موت سے پہلے ہر اہل کتاب اس پر ایمان ار دیا جرد القیم کو مرنے لگتے ہیں اور اُن کو ملا کہ موت نظر آتے ہیں تو حضرت اور به قبل موته ويوم القيمة اور وہ قیامت کے دن ان کی مسیح" پر ایمان لاتے ہیں ہر چند وہ ایمان کچھ فائدہ نہیں کیا۔يَكُونُ لائے گا۔اس قول پر دو شبہ ہوتے ہیں۔اول تو اس بات کے ثبوت عَلَيْهِمْ شَهيدان کے لئے کوئی ثبوت مخبر صادق سے ہونا چاہیے حالانکہ اس کا ص گواہی ترکیب گا۔ثبوت نہیں اور جو احادیث پیش کی جاتی ہیں وہ مخدوش ہیں۔ان کہنے آ من اہل الکتاب خبر بے مبتدا محذوف کی دوسرا شبہ یہ ہے کہ ایسے وقت تو عالم غیب کا پردہ اُٹھ جاتا ہے۔