قندیل ہدایت — Page 1357
۹۰۳ 1357 of 1460 دانی ایل ۱۳:۱۲ 903 ١٢ آخری زمانہ کے اوپر کھڑا تھا اپنا داہنا ہاتھ اور اپنا بایاں ہاتھ آسمان کی طرف اس وقت میکائیل مقرب فرشتہ جو تیری قوم کا محافظ اُٹھایا اور میں نے اسے محی القیوم کی قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سُنا کہ ہے اُٹھ کھڑا ہو گا۔وہ ایسی مصیبت کا وقت ہوگا جیسا یہ حال ایک زمانہ، دو زمانوں، نصف زمانہ تک رہے گا۔آخر کار قوموں کی ابتدا کے زمانہ سے اس وقت تک کبھی نہ ہوا ہو گا۔لیکن جب مقدس لوگوں کا اقتدار ختم ہو جائے گا تب یہ سب کچھ پورا اس وقت تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں درج ہوگا۔ہوگا۔نجات پائے گا۔اور کثیر التعدادلوگ جو خاک میں سور ہے میں نے یہ سُنا لیکن سمجھ نہ پایا۔اس لیے میں نے پوچھا، ہیں ، جاگ اُٹھیں گے، بعض حیات ابدی کے لیے اور بعض رسوائی میرے خداوند، ان سب کا انجام کیا ہوگا ؟ اور ذلت ابدی کے لیے۔اہلِ دانش نورِ فلک کی مانند منو رہوں اس نے جواب دیا۔اے دانی ایل۔تو اپنی راہ لے کیونکہ گے اور وہ جو لوگوں کو راستبازی کی راہ پر لاتے ہیں ستاروں کی یہ باتیں آخری زمانہ تک کے لیے بند کر دی گئی ہیں اور ان پر مہر لگا مانند ابد الآبا دجگمگائیں گے۔لیکن تو اے دانی ایل اس طومار کے دی گئی ہے۔' بہت لوگ پاک ہو کر صاف وشفاف کیے جائیں الفاظ کو زمانہ کے آخر تک بند کر کے مہر لگا۔کئی لوگ اپنی معلومات گے۔لیکن شریر، شرارت کرتے رہیں گے۔شریروں میں سے کوئی میں اضافہ کرنے کے لیے ادھر اُدھر تفتیش و تحقیق کرتے سمجھ نہ پائے گا لیکن دانشور سمجھ جائیں گے۔پھریں گے۔جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور جب میں دانی ایل نے دیکھا کہ میرے سامنے دو اور شخص اجاڑ نے والی مکروہ ھے نصب کی جائے گی تب سے ایک ہزار دوسو کھڑے تھے ایک ندی کے اس کنارے پر اور دوسر اس کنارے تو ے دن گذر چکے ہوں گے۔" مبارک ہے وہ شخص جو انتظار ان میں سے ایک شخص نے کتانی لباس پہنے ہوئے شخص سے کر کے ایک ہزار تین سو پینتیس دن پورے کرے گا۔۱۳ لیکن تُو پر۔جو ندی کے پانی کی سطح کے اوپر کھڑا تھا' کہا۔یہ حیرت انگیز چیزیں اپنی راہ لے جب تک کہ آخرت نہ آ جائے۔تو آرام کرے گا اور وقوع میں آنے تک کتنا عرصہ لگے گا ؟ تب ایام کے اختتام پر تو اپنی متعین میراث پانے کے لیے اُٹھ کھڑا کستانی لباس پہنے ہوئے شخص نے جو ندی کے پانی کی سطح ہوگا۔ہو سیع یہ کتاب آٹھویں صدی قبل از مسیح میں ظہور میں آئی۔مصنف کا نام ہوسیع ہے اور اس کتاب کا نام بھی اس کے مصنف کے نام پر رکھا گیا ہے۔ہوسیع کا مطلب ہے خدا بچاتا ہے یعنی نجات دیتا ہے۔یہ نبی انبیائے اصغر میں شمار کیا جاتا ہے۔وہ عموس، یسعیاہ اور میکاہ جیسے نبیوں کا ہم عصر رہ چکا ہے۔ہوسیع نے اپنی کتاب میں قوم اسرائیل کی خدا سے بے وفائی کو میاں بیوی کی جدائی سے تشبیہ دی ہے۔ہوسیع کی اپنی بیوی بھی بے وفا نکلی تھی۔اپنی زندگی کے اس تلخ تجربہ کو ہوسیع نے قوم اسرائیل کی اپنے پر محبت خدا سے بے وفائی سے مشابہت دی ہے۔ہوسیع نے قوم اسرائیل کی بے وفائی کے باوجود خدا کو ایک ایسے خاوند سے تشبیہ دی ہے جو اپنی سچی محبت کے باعث قوم اسرائیل کے گناہ کو معاف کرنے پر آمادہ ہے۔اگر چہ وہ گناہ سے سخت نفرت کرتا ہے لیکن وہ اپنے لوگوں کے گناہ معاف کر کے انہیں پھر سے اپنی پناہ میں لینے کے لیے تیار رہتا ہے۔اس کتاب کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: ا۔ہوسیع کا دکھ بھرا تجربہ ۴۔خداوند خدا کی بنی اسرائیل سے محبت ۲۔قوم اسرائیل کی بدحالی ۵۔بنی اسرائیل کا دوبارہ عروج پانا۔۳۔قوم اسرائیل کا سزا پانا