قندیل ہدایت — Page 1349
1349 of 1460 536 کھڑا ہو اور میری کمک کے لیے آ۔میرا تعاقب کرنے والوں کے راستہ میں نیزہ لے کر کھڑا ہو جا۔میری جان سے کہہ میں تیری نجات ہوں۔جو میری جان کے خواہاں ہیں وہ رسوا اور شرمندہ ہوں ؛ جو میری بربادی کا منصوبہ باندھتے ہیں وہ دہشت زدہ ہو کر پسپا کیے جائیں۔وہ ایسے ہو جائیں جیسے ہوا کے آگے بھوسی ، اور خداوند کا فرشتہ انہیں ہانکتا رہے ؛ اُن کی راہ تاریک اور پھسلنی ہو جائے ، اور خداوند کا فرشتہ اُن کو رگید تا چلا جائے۔ے کیونکہ اُنہوں نے بلا وجہ میرے لیے جال بچھایا ہے اور ناحق میرے لیے گڑھا کھودا ہے۔اُن پر نا گہاں تباہی آجائے۔زیور ۳:۳۵ اور غم کے مارے میرا سر جھک گیا ۵۳۶ گویا میں اپنی ماں کے لیے رورہا ہوں۔۱۵ لیکن جب میں لڑکھڑایا تو وہ خوش ہو کر ا کٹھے ہو گئے؟ حملہ آور میرے خلاف جمع ہو گئے اور مجھے اس کا علم بھی نہ تھا۔اور مجھ پر بہتان باندھنے سے باز نہ آئے۔١٦ بے دینوں کی طرح اُنہوں نے عداوت سے میرا مضحکہ اُڑایا ؛ ۱۶ ۱۷ اور مجھ پر دانت پیسے۔اے خداوند ! تو کب تک دیکھتا رہے گا؟ میری جان کو اُن کی غارتگری سے، ہاں میری قیمتی جان اُن شیروں کے منہ سے چھڑا لے۔۱۸ میں بڑے مجمع میں تیرا شکر یہ ادا کروں گا؟ لوگوں کے ہجوم میں میں تیری ستایش کروں گا۔۱۹ جولوگ ناحق میرے دشمن بن گئے ہیں وہ مجھ پر شادیانے نہ بجائیں؛ جو بلا وجہ مجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ چشمک زنی نہ کریں۔اور جو حال اُنہوں نے بچھایا ہے اُس میں وہ آپ ہی جا پھنسیں، کیونکہ وہ امن کی باتیں نہیں کرتے ، وہ گڑھے میں گر جائیں اور تباہ ہوں۔۹ تب میری جان خداوند میں خوش ہوگی اور اُس کی نجات سے شادمان ہوگی۔۱۰ میرا گل وجود یہ کہے گا، اے خداوند ! تیری مانند کون ہے؟ تو غریبوں کو اُن کے ہاتھ سے جو زیادہ زور آور ہیں، اور مسکینوں اور محتاجوں کو غارتگروں سے چھڑاتا ہے۔ا سنگدل گواہ میرے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں؟ بلکہ ملک کے امن پسندوں کے خلاف بھی جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔۲۱ وہ میرے سامنے منہ پھاڑ پھاڑ کر کہتے ہیں؟ آیا آیا، ہم نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔۲۲ اے خداوند! تُونے تو خُود یہ دیکھا ہے؛ لہذا خاموش نہ رہ۔اے خداوند ! مجھ سے دُور نہ ہو۔۳ جاگ اور میرے بچاؤ کے لیے اُٹھ ! اے میرے خدا اور میرے خداوند! میری عدالت کر۔اور مجھ سے ایسی باتوں کے متعلق پوچھتے ہیں جنہیں میں نہیں جانتا۔۲۲ اے خداوند میرے خدا! اپنی صداقت کے مطابق میرا انصاف کر ؛ ۱۲ وہ مجھ سے نیکی کے بدلے بدی کرتے ہیں اور میری جان کو لا چار کر دیتے ہیں۔ا تو بھی جب وہ بیمار تھے تو میں نے ٹاٹ اوڑھا ۱۴ اور روزے رکھ کر نفس کشی کی۔انہیں مجھ پر شادمان نہ ہونے دے۔۲۵ انہیں یہ سوچنے کا موقعہ نہ دے کہ آہا، یہی تو ہم چاہتے تھے! اور نہ یہ کہنے کا کہ ہم اُسے نگل گئے ہیں۔جب میری نا مقبول دعائیں میرے پاس لوٹ آئیں۔۲۶ جو میری بربادی پر خوش ہوتے ہیں تو میں ماتم کرنے لگا گویا اپنے دوست یا بھائی کے لیے ہی کر رہا ہوں۔وہ شرمندہ اور پریشان ہو جائیں ؛ جو میرے مقابلہ میں اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارتے ہیں،