قندیل ہدایت — Page 132
132 of 1460 كشف المحجوب۔رسول صلی اللہ علہ وسلم نے فرما یا شہیدوں کی رو میں پرندوں کے پوٹوں میں رہتی ہیں۔یہ میں ہونے کی دلیل ہے۔آپ نے رواج کو شکر کیا شک باقی ہوتے ہیں بعض کو بتا نہیں۔عرض شود نمود قائم نہیں ہوتا۔روح ایک جسم لطیف ہے جو حکیم خداوندی آتا ہے اور رخصت ہو جاتا ہے پہنی صلی اللہ علیہ سل نے فرما یار میں نے شب معراج آدم صفی اللہ بوست میدیای موسی بارون میسلی اور ابراہیم سارہ اللہ یہم اجمعین کو آسمانوں پر دیکھا۔یقینا یہ ان کی رو میں ہوں گی۔اگر روح معرض سہی ہوتی تو بذات خود قائم ہوکر نظرنہ آئی کیونکہ دکھائی دینے کے لیے جو ردعمل کی ضرورت ہے یعنی وہ جوهر یا محل کہ درج جس کا مرض ہو لامحالہ جوهر طیف نہیں بلکہ کثیف ہوتا ہے پس ثابت ہوا کہ در حجیم ہے اور جسم لطیف رکھتی ہے جیم ہونے کی وجہ سے نظر آسکتی ہے مگر صرت مشمول کو بقول منیر صلی اللہ علہ وسلم۔میں پرندوں کے اندر رہ سکتی ہیں اور ان کو شکروں کی مثال کہا جا سکتا ہے۔یہاں ہمیں اختلاف ہے، ان محدوں سے جو یہ کہتے ہیں کہ روح قدیم ہے۔اس کی پرستش کرتے ہیں اور اس کو ہر چیز کا ص 2 فاصل اور دیر بجھتے ہیں۔خدائے مری ل کی طرح اس کو غیر مخلوق تصور کرتے ہیں اور یہ دھرتی کرتے ہیں کہ وہ ایک جسم سے دوسر جسم میں منتقل ہو جاتی ہے جس قدر خلقت اس گمراہی میں مبتلا ہوتی ہے شاید ہی کسی اور گمراہی میں ہوئی ہو۔یہ عقیدہ عیسائیوں کا ہے گورہ بیان کرتے وقت مختلف انداز میں بیان کر جاتے ہیں۔ہند تثبت چین، ما چین میں یہی عقید ہ مروج ہے شعر قرامطہ اور باطنیہ کا بھی اسی پر اجتماع ہے۔شکورہ بالاده باطل گروہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ان را گم کردہ جماعتوں کے چند مفروضات میں جن کی بنا پر وہ دلائل و بر میں پیش کرتے ہیں ہیں ان سے ایک سوال کرتا ہوں۔قدیم سے تمہاری مراد کیا ہے ؟ اس کا مطلب محدث قبل از وجود ہے یا قدیمی ازلی ہے ؟ اگر مطلب محدث قبل از موجود ہے تو اصولا کوئی فرق نہ ا کیونکہ ہم بھی روح کو ایسا محدث سمجھتے ہیں جوں کا جو شخصی وجود سے پہلے معرض وجود میں آتاہو۔چنانچہ پیغمی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقیناًاللہ تعالی نے ارواح کو جہاد سے پہلے پیدا کیا۔روح ایک قسم کی مخلوق خدا ہے وہ اسے ایک دوسری قسم کی مخلوق سے پوند کر دیتا ہے۔اور اس طرح پیوند کرنے میں اپنی قدرت سے زندگی پیدا کرتا ہے گر روح ایک جسمانی قالب سے دوسرے مہمانی قالب میں منتقل نہیں ہو سکتی کیونکہ جس طرح جسم کے لیے دو زندگیاں نہیں ہوسکتیں روح ص ۲۸۷ کے لیے دوسم نہیں ہوسکتے اگر اس حقیقت پر یمیر سی الہ علیہ سلم کی احادیث ناطق نہ ہوتی اور پیغمبر صل اللہ علیہ وسلم کی صداقت مسلم نہ ہوتی تو عفی نقطۂ نظر سے روح کو صرت زندگی کہا جا سکتا۔اس کی حیثیت ایک صفت کی ہوتی اور روہ toobaa-elibrary۔blogspot۔com