قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1284 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1284

1284 of 1460 40 رہن رکھ جائے گا ؟ ۱۸ پیدائیش ۱۸:۳۸ ۴۰ بھائی جس کی کلائی پر سرخ دھا گا باندھا ہوا تھا پیدا ہوا اور اُس کا یوسف اور فوطیفار کی بیوی اُس نے کہا: میں تیرے پاس کیا رہن رکھوں؟ نام زارح رکھا گیا۔اُس نے جواب دیا: اپنی مہر اور باز و بند اور اپنی لاٹھی دے دے۔چنانچہ اس نے یہ چیزیں اُسے دیں اور اُس کے پاس گیا اور وہ اُس سے حاملہ ہوگئی۔۳۹ یوسف کو مصر لے جایا گیا اور فوطیفا ر مصری نے جو فرعون کے افسروں میں سے تھا اور ۱۹ تب وہ چلی گی اور اُس نے اپنا برقع اُتار ڈالا اور پھر سے پہرہ داروں کا سردار تھا اُسے اسمعیلیوں کے ہاتھ سے جو اُسے وہاں لے گئے تھے خریدلیا۔بیوگی کے کپڑے پہن لیے۔۲۰ اس اثنا میں یہوداہ نے اپنے عد ولامی دوست کے ساتھ خداوند یوسف کے ساتھ تھا اور وہ برومند ہوا اور اپنے بکری کا بچہ بھیجا تا کہ اُس عورت کے پاس سے اپنا رہن واپس مصری آقا کے گھر میں رہنے لگا۔جب اُس کے آقا نے دیکھا منگائے۔لیکن وہ منگائے۔لیکن اُسے وہ عورت نہیں ملی۔۲۱ اُس نے وہاں کے کہ خداوند اس کے ساتھ ہے اور جو کچھ وہ کرتا ہے اُس میں اُسے باشندوں سے دریافت کیا کہ وہ طوائف کہاں ہے جو میٹیم میں راہ کامیابی بخشتا ہے، تو یو سف پر اس کی نظر کرم ہوئی اور اس نے کے کنارے بیٹھی تھی؟ یوسف کو اپنی خدمت گزاری میں لے لیا۔فوطیفا ر نے اُسے اپنے اُنہوں نے کہا: یہاں تو کوئی طوائف نہ تھی۔گھر کا مختار مقرر کیا اور اپنا سب کچھ اُسے سونپ دیا۔“ جب سے ۲۲ چنانچہ وہ یہوداہ کے پاس واپس آیا اور کہا: وہ مجھے نہیں ملی اُس نے اُسے اپنے گھر کا مختار اور اپنے مال ومتاع کا نگراں مقرر اور وہاں کے لوگوں نے بھی کہا کہ ہم نے یہاں کسی طوائف کو نہیں کیا تب سے خداوند نے یوسف کی وجہ سے اُس مصری کے گھر کو برکت بخشی۔فوطیفار کی ہر شے پر خواہ وہ گھر کی تھی یا کھیت کی دیکھا۔۲۳ تب یہوداہ نے کہا: جو اُس کے پاس ہے اُسی کے پاس خدا کی برکت ہوئی۔چنانچہ اس نے اپنی ہر ھے یوسف کے حوالہ رہے ورنہ ہماری بڑی بدنامی ہوگی۔میں نے تو اُسے بکری کا بچہ کردی اور یوسف کی موجودگی کے باعث اُسے سوا اپنے کھانے پینے کے کسی اور بات کی فکر نہ تھی۔بھیجا تھا پر وہ تجھے نہ ملی۔۲۴ تقریباً تین ماہ کے بعد یہوداہ کو یہ خبر ملی کہ تیری بہو تمر یوسف بڑا تنومند اور خوبصورت تھا۔“ اور کچھ ہی عرصہ کے نے زنا کیا جس کی وجہ سے اب وہ حاملہ ہے۔بعد یوسف کے آقا کی بیوی کی نظر یوسف پر پڑی اور اُس نے یہوداہ نے کہا: اُسے باہر نکال لا ؤ اور جلا کر مار ڈالو۔اُسے ہم بستر ہونے پر مجبور کیا۔جب اُسے باہر نکالا جارہا تھا تب اُس نے اپنے سسٹمر کو لیکن اُس نے انکار کر دیا۔یوسف نے اُس سے کہا: میں یہ پیغام بھیجا کہ جس شخص سے میں حاملہ ہوئی اُسی کی یہ چیزیں اس گھر کا مختار ہوں اور اس وجہ سے میرے آقا کو گھر کی فکر کرنے ہیں۔اُس نے مزید کہا کہ تو پہچان تو سہی کہ یہ مہر باز و بند اور لاٹھی کی ضرورت نہیں۔اُس نے اپنے گھر کا سارا اختیار مجھے دے رکھا ہے۔اس گھر میں مجھ سے بڑا کوئی نہیں اور میرے آقا نے کوئی ۲۵ کس کی ہے؟ ۲۶ ۲۷ ۲۸ یہوداہ نے اُنہیں پہچان لیا اور کہا: وہ مجھ سے زیادہ شے میرے اختیار سے باہر نہیں رکھی سوا تیرے کیونکہ تو اُس کی بیوی راستباز ہے کیونکہ میں نے اُسے اپنے بیٹے سیلہ سے نہیں بیاہا اور وہ ہے۔پھر بھلا میں ایسی ذلیل حرکت کیوں کروں اور خدا کی نظر میں پھر کبھی اُس کے پاس نہیں گیا۔گنہگار بنوں؟ ' گو اُس کا اصرار دن بدن بڑھتا گیا لیکن يُوسُف جب اُس کے جنے کا وقت نزدیک آیا تو معلوم ہوا کہ نے اُس سے ہم بستر ہونے سے انکار کردیا اور وہ اُس کے پاس اُس کے رحم میں جڑواں بچے ہیں۔جب وہ جنے لگی تو اُن میں آنے سے بھی گریز کرنے لگا۔سے ایک نے اپنا ہاتھ باہر نکالا اور دایہ نے سرخ دھا گا لے کر اُس ایک دن وہ کسی کام سے گھر میں داخل ہوا اور گھر کے لوگوں کی کلائی میں باندھ دیا اور کہا: یہ پہلے پیدا ہوا۔۲۹ لیکن جب اُس میں سے کوئی بھی اندر موجود نہ تھا۔۱۲ تو فوطیفار کی بیوی نے اُس کا نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا تب اُس کا بھائی پیدا ہوا اور اُس نے کہا: پیرا ہن پکڑ لیا اور کہا: میرے ساتھ ہم بستر ہو۔لیکن وہ اپنا پیراہن تو زبردستی نکل پڑا اور اُس کا نام فارض رکھا گیا۔۳۰ تب اُس کا اُس کے ہاتھ میں چھوڑ کر گھر سے باہر بھاگ گیا۔