قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 124 of 1460

قندیل ہدایت — Page 124

124 of 1460 یوسف صدیق اللہ موسیٰ کلیم اللہ ہارون کلیم اللہ عیسی روح اللہ اور ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہم اصلوۃ والسلام کو آسمانوں پر دیکھا تو لا محالہ ان کی رو میں تھیں اور اگر روح عرضی ہوتی بخود قائم ہوتی حتی کہ بحالت اسے دیکھ نہیں سکتا۔اگر عرض ہوتا تو اس کے وجود کے لیے کوئی محل ہوتا جہاں وہ عارضی ہوتی اور اس کا محل جو ہر ہوتا اور جو ہر مؤلف اور کثیف ہوتا ہے۔تو معلوم ہوا کہ اگر روح لطیف جو ہر اور جسم ہے تو اس کا دیکھنا جائز بھی ہونا چاہیے۔لیکن دل کی آنکھ سے دیکھ لی جاتی ہے اور بستہ پروں میں وہ جنت میں ہوتی ہے اور اسے اپنی قبر اور قنادیل عرش میں آنے جانے کی راہ ہے۔جیسا کہ اس کے ثبوت میں اخبار و احادیث ناطق ہیں اور ان کا آنا جانا بحکم الہی ہوتا ہے۔جیسا که فرمایا: و قل الرُّوحُ مِنْ اَمرِ رَتي ) (۱) اے محبوب فرما دیجئے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ایک امر ہے۔“ یہاں ملاحدہ کا اختلاف ہے۔اس لیے کہ وہ روح کو قدیم کہتے ہیں اور اسے پوجتے ہیں۔اسے فاعل اشیاء اور مدبر بھی اس حد تک مانتے ہیں کہ اسے بغیر تدبیر امور نہیں ہو سکتی۔اسے ارواح آلہ اور لم یزل کہتے ہیں۔اس عقیدہ پر نصاری بھی ہیں اور تبت اور چین چین کے تمام ہندو یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔اور ادھر سے شیعہ اور قرامطہ اور فرقہ باطنیہ بھی اس عقیدہ پر ہے۔ہر گروہ کے متعلق ہم ذکر کریں گے۔اس میں سوال طلب جو چیز ہے وہ یہ کہ روح قدیم کس معنی میں مانتے ہیں۔محدث مقدم مانتے ہیں جو وجود میں ہے۔یا ایسا قدیم مانتے ہیں کہ ہمیشہ باقی رہے۔اگر وہ کہیں کہ ہماری مراد محدث متقدم ہے وجود سے۔تو ایسی صورت میں اصل کے اندر خلاف پیدا ہو گا۔اس لیے کہ ہم بھی روح کو محل ضرور کہتے ہیں۔اس لیے کہ تقدم وجود روح کو وجود شخصی پر تسلیم کیا گیا ہے۔اس لیے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ان اللهَ خَلَقَ الْأَرْوَاحَ قَبْلَ الْأَجْسَادِ بِمِانَتِي ألف عام۔(1) بیشک اللہ نے ارواح کو اجسام سے دو لاکھ سال قبل پیدا فرمایا۔تو جب اسے محدث مانا جائے تو لا محالہ محدث کو محدث کے ساتھ محدث ماننا پڑے گا اور یہ ایک قسم ہو گی مخلوق حق سے جسے دوسری جنس کے ساتھ ملایا گیا ہو اور اس ملانے سے لازم آئے گا کہ اللہ تعالی حیوۃ سے 1- سورة الاسراء: ۸۵ ۲۔یہ الفاظ اس حدیث شریف کا حصہ ہیں جسے امام ازدی نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور امام ابن جوزی نے ” الموضوعات میں اور امام شوکانی نے الفوائد المجموعه (ص: ۳۸۲) میں ذکر کیا ہے اور مکمل حدیث شریف یوں ہے: ان الله خلق الارواح قبل الاجساد بالفي عام ثم جعلها تحت العرش ، ثم أمرها بالطاعة لى فازل روح سلمت على روح على Marfat۔com