قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1051 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1051

1051 of 1460 مشكوة مترجم جلد اول علم کا بیان ألقى فِي التَّارِوَ رَجُلٌ وَشَعَ الـ هِ وَاعْطَہ کہ لوگ مجھ کو عام کہیں اور قرآن اس لئے پڑھا کہ لوگ مجھ کو قاری کہیں چنانچہ مجھ کو مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كله فاتی به فعرفه نعمه عالم اور قاری کہاگیا پھر کم دیا جائیگا اور اس کو منہ کے بل کھینچ جائیگا۔پھر دے فَعدَ فَهَا قَالَ فَمَا عَمِلت فيها قال ما تركت آگ میں ڈال دیا جائگا۔اس کے بعد ہ شخص ہوگا جس کو خدا نے وسعت دی اور اسکی مِنْ سَبِيلِ يُحِبُّ أَن يَنْفَقَ فِيهَا إِلَّا انفقت روزی گو زیادہ کیا اور طرح طرح کا مال عطا کیا اس کو خدا کے حضور میں حاضر کیا گیا فيهَا لَكَ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُو جو اد فقد گا اور خدا اور اس کو اپنی نعمتیں یاد دلائیگا اور وہ ان نعمتوں کو یاد کریگا پھر ضد اورناد گا خدا کو قبل ثُمَّ امر به فسحب على وجهه ثم القى تعالی اسے پوچھے گا ان نعمتوں کے شکر یں تونے کیا کام کیا؟ وہ کہے گا میں کوئی ایسا في النَّارِ راستہ جس میں خریچ کرنا تجھ کو پسند ہے نہیں چھوڑا اور تیری خوشنودی کے لئے اس رروائی مسلم میں خرچ کیا۔خداوند تعالیٰ فرمائیگا تو جھوٹا ہے تو نے تو اس لئے خروج کیا کہ تجھ کو سخی کہا جائے چنانچہ مجھ کو سخی کہا گیا۔یں حکم دیا جائیگا کہ اس کو منہ کے بل کھینچا جائیگا اور پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔(مسلم) وَ عَن عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ حضرت عبد الرین عمر بیان کرتے ہیں رسول الله لا اله علی کل نے فرمایاک صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ لا يقبض العلم ان اما اله تعالی علم کو آخری زمانہ میں اسطرح نہیں اٹھا ئیگا کہ لوگوں دل و دماغ سے سرعة مِنَ الْعِبَادِ ولكن ينقبض العلم تقبض العلماء اس کو نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھا یا کہ علما حق کو اٹھا لیگا حتی کہ جب کی ئیگا جبکہ تی حتَّى إِذَا لَمينَ عَالِمَّا اتَّخَذَ النَّاسُ رُو سا جمالاً عالم باقی نہیں رہیگا تو لوگ جانوں کو اپنا ایشو بنا لیں گے اپنے دین کی باتیں فَعِلُوا فَا فَتى بِغَيْرِ عِلْمٍ فضلو او اضلوا - رکھیں گے اور وہ علم کے بغیر فتوی دین کے خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی رمتَّفَى عَلی گمراہ کریں گے۔(بخاری و مسلم) وو ن شقينِ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللهِ بِهِ مَسه شقیق سے روایت ہو کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ہر جمعرات کو لوگوں کو حافظ يُذكر النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ یا آیا کیا کرتے تھے (ایک روز ) ایک شخص نے ان سے کہا۔اے ابو عبد الرحمن مں چاہتا ہو عبد الرَّحْمنِ تو دِدتُ أَنَّكَ ذكرتنا في كل يوم کر آپ روزانہ ہم کو وعظ و نصیحت فرمایا کریں۔عبد اللہ بن مسعود نے کہا میں ایسا قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَمنعني من ذلك اني اخر آن اس لئے نہیں کرتا کہ تم کیا جاؤ گے میں نصیحت کے معاملہ میں اسی طرح تمہاری اکتا امِلَكُمْ وَإلى انخى لَكُم بِالموعظة كما سمان رو خبر گیری کرتا ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم ہماری خبرگیری کرتے الله صلے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَخَوَ لَنَا بِهَا مَعَانَة تھے اور ہمارے اُکتا جانے کا خیال رکھتے تھے۔كتَابِهَا اور السامة علينا ر (متفق علیه) (بخاری و مسلم ) وعن انس قال كان النبي صل الله عليه وسلم حضرت انس فر کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلے الہ کی کم جب کوئی بات کہتے ہیں النَّبِيُّ اللَّهُ إذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا تَلَنَّا حَتَّی تُفهم عنه و مرتبہ اس کا اعادہ فرماتے یہاں تک کہ لوگ اس کو اچھی طرح سمجھ لیتے اور إذَا آلَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَمَ عَلَيْهِم سلّم عليهم تکنا۔جب آپ کسی جماعت کے قریب سے گزرتے اور اسکو سلام کرنے کا اراد (رواہ البخاری) فرماتے ، تو تین مرتبہ اس کو سلام کرتے۔(بخاری) وَعَن إِلى مَسْعُود الأنصارِي قَالَ جَاءَ رَجُلٌ حضرت ابو مسعود انصاری رضہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال إنه أبدع في علیہ وسلم کی خدمت یں حاضر ہو کر عرض کیا۔میری سواری چلنے سے عاجز ہوگئی فَاحْمِلْنِي فَقَالَ مَا عِنْدِى فَقَالَ رَجُلٌ یا رسول ہے آپ مجھ کو سواری عطا فرمائیے۔آن حضرت نے فرمایا۔میرے پاس (کوئی) اللَّهِ أَنَا ادْتُهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلَهُ فَقَالَ رَسُولُ الله سواری نہیں ہے۔ایک شخص نے عرض کیا۔یا رسول اللہ! میں ایسا شخص اس کو عَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَ عَلَى خَيْرِ فَلَهُ مِثْلُ بتلا دوں جو سواری دیدے؟ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص