قندیل ہدایت — Page 1008
۸۶۸ 1008 of 1460 حزقی ایل ۳:۳۲ 868 شاه مصر فرعون کا نوحہ تیار کر اور اس سے کہہ: ۶ ۷ Λ ۹ ۱۰ میں کئی قوموں کو تیری وجہ سے حیرت زدہ کر دوں گا، اور جب میں اپنی تلوار ان کے سامنے گھماؤں گا تو مختلف قوموں کے درمیان شیر ببر کی مانند گردانا جاتا ہے، تب ان کے بادشاہ تیرے باعث خوف سے کانپ اُٹھینگے۔لیکن تو محض سمندر میں کے گھڑیال کی مانند ہے، جوا اپنی ندیوں میں غوطے مارتا ہے تیرے زوال کے دن ان میں سے ہر ایک اور ان کے پانی کو پاؤں سے متحرک کر کے ان میں جھاگ اپنی اپنی جان بچانے کے لیے ہر پل کا نپتا رہے گا۔پیدا کرتا ہے اور ان کی ندیوں کو گدلا کر دیتا ہے۔خداوند خدایوں فرماتا ہے : میں لوگوں کی ایک بڑی بھیٹر کے ساتھ تجھ پر اپنا جال پھیلاؤں گا اور وہ تجھے میرے ہی جال میں کھینچ لیں گے۔میں تجھے زمین پر پھینک دوں گا اور تجھے کھلے میدان میں پٹک دُوں گا۔اور ہوا کے تمام پرندوں کو تجھ پر بسیرا کرنے دوں گا ۱۲ ۱۳ ا خداوند خدا یوں فرماتا ہے: شاہ بابل کی تلوار تجھ پر چلے گے۔میں تیری جمعیت کو ایسے قومی لوگوں کی تلواروں سے گراؤں گا۔جو تمام قوموں میں نہایت ہیبت ناک ہیں۔وہ مصر کے گھمنڈ کو چور چور کر دیں گے، اور اس کے تمام لوگوں کو کچل دیں گے۔میں اس کے تمام مویشیوں کو اور زمین کے تمام درندے سیر ہونے تک تجھے نگلتے رہینگے۔پانی کے ذخیروں کے پاس سے نابود کر دوں گا میں تیرا گوشت پہاڑوں پر پھیلا دوں گا اور تیرے باقی اعضاء سے وادیوں کو بھر دوں گا۔تا کہ انسان کے قدم پھر بھی ان کے پانی کو متحرک نہ کریں نہ مویشیوں کے سم اسے گدلا کریں۔میں زمین کو پہاڑوں تک تیرے بہتے ہوئے خون سے سینچوں گا ۱۴ تب میں ان کا پانی نظر نے دُوں گا اور نالے تیرے خون آلودہ گوشت سے بھر دئے جائیں گے۔اور اس کی ندیوں کو روغن کی مانند بہنے دوں گا، جب میں تجھے مٹاؤں گا اس وقت میں آسمان پر پردہ ڈال یہ خداوند خدا نے فرمایا ہے۔۱۵ جب میں مصر کو ویران کر دوں گا دُوں گا اور اس کے ستاروں کو بے نور کر دوں گا؛ میں آفتاب کو بادلوں سے چھپالوں گا، اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا۔اور میں تمام نورانی اجرام فلک کو تجھ پر تاریک کر دوں گا ؛ اور تیرے ملک کو تاریکی سے ڈھانپ دُوں گا، یہ خداوند خدا نے فرمایا ہے۔جب میں مختلف قوموں کے درمیان اور ملک کو ہر شے سے خالی کر دوں گا، اور جب میں اس میں بسنے والوں کوختم کر دوں گا، تب وہ جان لیں گے کہ میں خدا وند ہوں۔14 اور وہ اس پر یہ نوحہ گائیں گے۔مختلف قوموں کی بیٹیاں بھی یہ نوحہ گائیں گی اور مصر اور اس کے لوگوں کا ماتم کریں گی۔یہ خداوند نے فرمایا ہے۔ے بارہویں سال کے مہینہ کے پندرھویں دن خداوند کا کلام اور ان ملکوں میں جو تیرے لیے اجنبی ہیں، تجھے تباہ کر مجھ پر نازل ہوا: ۱۸ اے آدم زاد، مصر کے لوگوں کے لیے ماتم کر ڈالوں گا، اور اسے اور زور آور قوموں کی بیٹیوں کو گڑھے میں اُتر جانے تب میں کئی قوموں کے دلوں کو مضطرب کر دوں گا۔والوں کے ساتھ زمین میں دفن کر دے۔ان سے کہہ، کیا تم