قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 986 of 1460

قندیل ہدایت — Page 986

۹۸۲ 986 of 1460 ۴۰:۱۰ متى 982 ۴۱ قابض ہوتے رہے ہیں۔کیونکہ سارے نبیوں اور توریت نے ہے، اُسے سلامت پائے گا۔۴۰ جو تمہیں قبول کرتا ہے، مجھے قبول کرتا ہے اور جو مجھے قبول یو حتا تک پیش گوئی کی۔اگر تم ماننے کے لیے تیار ہو تو وہ ایلیاہ جو کرتا ہے وہ اُسے قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔جو نبی کو آنے والا تھا یہی ہے۔جس کے پاس سننے کے کان ہوں وہ سُن لے۔نبی سمجھ کر قبول کرتا ہے وہ نبی کا اجر پائے گا اور جو کسی راستباز کو میں اس زمانہ کے لوگوں کو رکس سے تشبیہ دوں؟ وہ اُن راستباز سمجھ کر قبول کرتا ہے وہ راستباز کا اجر پائے گا۔۴۲ اور جو لڑکوں کی طرح ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے اپنے ہمجولیوں کو ان چھوٹوں میں سے کسی کو میرا اشاگرد مان کر ایک پیالہ ٹھنڈا پانی ہی پکار کر کہتے ہیں: پلا دے گا تو میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر ہرگز نہ کھوئے گا۔خداوند یسوع اور یو حتا بپتسمہ دینے والا ےاہم نے تمہارے لیے بانسری بجائی، جب یسوع اپنے بارہ شاگردوں کو ہدایت دے چکا تو لیکن تم نہ ناچے ؛ وہاں سے روانہ ہو ا تا کہ اُن کے دوسرے شہروں میں ہم نے ماتم کیا، بھی تعلیم دے اور منادی کرے۔یوحنا نے قید خانہ میں مسیح کے کاموں کے بارے میں سُنا تو 11 تب بھی تم نے چھاتی نہ پیٹی۔اُس نے اپنے شاگردوں کو بھیجا کہ وہ مسیح سے پوچھیں کہ وہ شخص ۱۸ کیونکہ یوحنا نہ کھاتا آیا اور نہ پیتا اور لوگ کہتے ہیں کہ جو آنے والا تھا تو ہی ہے یا ہم کسی اور کا انتظار کریں۔اُس میں بد روح ہے " ابنِ آدم کھا تا اور پیتا آیا اور وہ کہتے ہیں یسوع نے انہیں جواب دیا کہ جو کچھ تم دیکھتے اور سنتے ہو دیکھو ! یہ کھاؤ اور شرابی ہے بلکہ محصول لینے والوں اور گنہ گاروں کا یار جا کر یودتا سے بیان کرد و ۵ کہ اندھے دیکھتے ہیں لہنگڑے چلتے ہے۔مگر حکمت اپنے کاموں سے راست ٹھہرتی ہے۔ہیں، کوڑھی پاک صاف کیے جاتے ہیں، بہرے سنتے ہیں، مُردے تو یہ نہ کرنے والوں پر افسوس زندہ کیے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔۲۰ تب يسوع ان شہروں کو ملامت کرنے لگا جن میں اُس مبارک ہے وہ شخص جو میرے سبب سے ٹھو کر نہیں کھاتا۔نے اپنے بیشتر معجزے دکھائے تھے لیکن انہوں نے تو یہ نہ کی تھی۔جب یوحنا کے شاگرد چلے گئے تو یسوع لوگوں سے یوحنا ۲۱ اے مرا زین! تجھ پر افسوس ، اے بیت صیدا!! تجھ پر افسوس۔اگر کے بارے میں کہنے لگا کہ تم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ہوا یہ مجھے جو تمہارے یہاں دکھائے گئے صور اور صیدا میں دکھائے سے ہلتے ہوئے سرکنڈے کو؟ اگر نہیں تو پھر اور کیا دیکھنے گئے تھے ؟ جاتے تو وہاں کے لوگ ٹاٹ اوڑھ کر اور سر پر راکھ ڈال کر کب کے نفیس کپڑے پہنے ہوئے کسی شخص کو؟ جو نفیس کپڑے پہنتے ہیں شاہی توبہ کر لیتے۔۲۲ لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ انصاف کے دن محلوں میں رہتے ہیں۔آخر تم کیا دیکھنے گئے تھے؟ کسی نبی کو؟ ہاں، صور اور صیدا کا حال تمہارے حال سے زیادہ قابل برداشت ہوگا۔لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ نبی سے بھی بڑے کو۔ایو سنتا ہی وہ ۲۳ اور اسے کفر نحوم ! کیا تو آسمان تک بلند کیا جائے گا؟ نہیں، تو پاتال میں اُترے گا کیونکہ یہ معجزے جو تجھ میں دکھائے گئے اگر سدوم میں دکھائے جاتے تو وہ آج تک باقی رہتا۔۲۴ لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ انصاف کے دن سدوم کا حال تیرے حال سے شخص ہے جس کی بابت کلام میں لکھا ہے کہ دیکھ میں اپنا پیغمبر تیرے آگے بھیج رہا ہوں، جو تیرے آگے تیری راہ تیار کرے گا۔زیادہ قابل برداشت ہوگا۔سکون اور اطمینان ۲۶ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں ۲۵ اُس وقت یسوع نے کہا: اے باپ آسمان اور زمین اُن میں یو کتا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی پیدا نہیں ہوا لیکن جو کے خداوند! میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تو نے یہ باتیں عالموں اور آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا ہے وہ یوجنا سے بھی بڑا ہے۔عقلمندوں سے پوشیدہ رکھیں اور بچوں پر ظاہر کیں۔" ہاں اے یوحنا بپتسمہ دینے والے کے دنوں سے اُس وقت تک خدا کی باپ ! تیری خوشی یہی تھی۔بادشاہی کی مدت سے مخالفت ہوتی رہی ہے اور زور آور اُس پر ۲۷ میرے باپ کی طرف سے سب کچھ میرے سپرد کر دیا