قندیل ہدایت — Page 858
858 of 1460 از دود ترجمه مکتوبات حصه چهارم دفتر اقبال بخشش سے اپنے متبوع انبیا کے تمام کمالات کو جذب کر لیتے ہیں۔اور پورے طور پر ان کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔حتی کہتا ہوں اور قبوعوں کے درمیان سوائے اصالت اور تبعیت اور اولیت اور آخریت کے کچھ فرق نہیں رہتا۔با وجود اس امر کے کوئی تابعدار اگرچہ افضل الرسل کے تا بعد اروں سے ہو۔کسی نبی کے مرتبیہ کو اگر چہ وہ تمام انبیاء سے کم درجہ کا ہو نہیں پہنچ سکتا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ جو انبیا علیہ معلوف والسلام کے بعد تمام انسانوں سے، افس میں ان کا سر ہمیشہ اس پیغمبر کے نیچے نہتا ہے جو تمام پیغمبروں سے نیچے درجے کا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ تمام انبیا اور ان کے ارباب کے تعینات کے مبادی مقام اصل سے ہیں۔اور تمام انا واستقل امتوں اور ان کے ارباب کے مبادی تعینات اس اصل کے خلال کے مقامات سے اپنے اپنے درجہ کے موافق ہیں۔پھر اصل وظل کے درمیان کس طرح مساوات ہو سکتی ہے۔شه غالب ہے۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے ولَقَدْ سَبَتُ كَلَتُنَا لِعِبَادِنَا المُرْسَلِينَ بے شک ہمارے مرسل بندوں کے لیے ہمارا نهم هم النصورُونَ وَإِن جُندَنَا وعدہ جو چکا کہ وہ تیاب ہیں اور ہمارا بھی شکر لهم الغالبون اور یہ تو کتے ہیں کہ تیل والی جو تمام انبیا علیہم الصلاة والسلام کے درمیان حضرت خاتم الرسل سے مخصوص ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کامل تابعداروں کو بھی اس تجلی سے حصہ حاصل ہے۔وہ اس معنے کے لحاظ سے نہیں ہے کہ تجلی ذات انبیا کے نصیب نہیں ہے۔اور تابعداری کے سبب ان کے کاموں کو نصیب ہے۔ماشا و کلا کر کوئی اس سے یہ مطلب تصور کرے۔کیونکہ اس میں اولیا کی انبیا پر زیادت ہے بلکہ اس تیل کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخصوص ہونا اس معنے کے اعتبار سے ہے، کہ دوسروں کو اس کا حاصل جرما آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی طفیل اور تبعیت سے ہے۔یعنی انبیا علیہ السلاة و اسلام کو اس تجلی کا حاصل ہونا انحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طفیل ہے۔اور اس امت کے کامل اولیا کو آن حصہ شمالی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تابعداری کے سبب سے انبیا علیہم الصلوۃ والسلام النحضرت صلی اللہ علیہ مرالہ وسلم کی نعمت عطے کے دستر خوان پر اس کے طفیلی اور ملیں ہیں۔اور اولیا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خادم نہیں خوردہ کھانے والے۔اور جیلیں طفیلی اور خادم پس خوردہ کھانے والے کے درمیان بہت فرق ہے۔اس مقام پر قدم لغزش لکھا جاتا ہے۔اس شہید کی تحقیق میں اس فقیر نے اپنے مکتوبات اور رسالوں میں کئی قسم کی وجہیں ذکر کی ہیں۔اور سورة والصافات ، پاره ۲۳ - marfat۔cont Marfat۔com