قندیل ہدایت — Page 552
552 of 1460 ہوگا تو ہم اس کی گردن اڑا دیں گے ورنہ در گذرتے ہوئے اس سے صرف نظر کریں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے دعوی نبوت کی پابندی کا مسئلہ اگر کہا جائے کہ لیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے نبوت کے دعوی پر پابندی تھی؟ تو جواب یہ ہے کہ کوئی پابندی نہ تھی۔اور اس نے عبد صالح حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا وما فعلته عن امری (الکہف آیت ۸۲۔میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا ) پس بیشک آپ کے زمانے نے یہ عطا کیا۔اور آپ اپنے رب کی طرف سے ایک شریعت پر تھے جسے آپ کے پروردگار نے آپ کی طرف ملک الہام کی زبان پر وحی فرمایا۔بعض کہتے ہیں کہ بلا واسطہ اتاری گئی۔اور حق تعالیٰ نے آپ کے لئے حضرت موسیٰ کے پاس اور ہمارے پاس اس کی گواہی دی ہے اور آپ کا تزکیہ فرمایا۔اور آج حضرت الیاس اور خضر علیہم الصلوۃ السلام شریعت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہیں۔موافقت کے طریقے سے یا اتباع کے طور پر۔بہر حال انہیں یہ صرف تعریف کے طور پر حاصل ہے بطور نبوت نہیں۔اور اسی طرح حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام جب زمین پر اتریں گے تو ہم میں صرف ہمارے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کے ساتھ فیصلہ کریں گے جس کا بطور تعریف اللہ تعالیٰ انہیں تعارف کرائے گا گرچہ آپ (اپنی ذات میں ) نبی ہیں۔امر حق سے مراد اور جان لے کہ حق عز و جل کا امر اس کا عمومی حکم ہے مگر یہ کہ اسے دلیل خاص کر دے۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اطیعوا الله واطيعوا الرسول (النساء آیت ۵۹ - اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی ) پس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد کسی کے لئے اختیار نہیں رکھا کہ آپ کی شرع کی مخالفت کرے۔اس پر صرف اتباع واجب کی ہے۔اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے یہ اختیار رکھا کہ شریعت جاری کریں پس امرکریں اور نہی کریں۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد و اولوالامر منكم (النساء آیت ۵۹ اور اپنے میں سے حاکموں کی ) تو ہمارا ان کی طاعت کرنے سے مراد اس صورت میں ہے جبکہ ہمیں مباح کا حکم دیں یا ہمیں اس سے روکیں۔نہ یہ کہ وہ ہمارے لئے ایسی شریعت جاری کریں جو کہ ثابت شدہ شرع مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف ہو۔تو جب وہ نہیں کسی مباح کا امر کریں یا ہمیں اس سے روکیں پس ان کی طاعت کریں تو اس میں ہمارا اجر اس شخص کا اجر ہو گا جس نے اللہ تعالیٰ کے امر کی طاعت کی جو اس نے امر اور نہی کی صورت میں واجب کیا۔اور یہ ہم پراللہ تعالیٰ کا کرم ہے۔اور اکثر لوگ اس کا شعور نہیں رکھتے بلکہ کبھی تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔واللہ اعلم۔اور شیخ نے فتوحات کے ۳۸ ویں باب میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد باب رسالت بند کر دیا تو وحی کے منقطع ہونے کی بناء پر جس کی وجہ سے اولیاء کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اتصال تھا یہ نہایت شدید حقیقت تھی جس کی تلخی اولیاء اللہ نے حلق سے اتاری کیونکہ یہ ان کی ارواح کی غذا تھی۔انتھی۔اور ۷۳ ویں باب کے ۲۵ دیں جواب میں شیخ نے فرمایا: جان لے کہ حضور محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد (فیض) نبوت مطلقاً مرفوع نہیں ہوا۔صرف نبوت تشریع اٹھائی گئی ہے۔پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میرے بعد کوئی رسول نہیں۔یعنی وہاں کوئی ایسا نہیں جو میرے بعد کوئی خاص شریعت جاری کرے تو یہ حضور صلی اللہ یہ وآلہ وسلم کے اس قول کی طرح ہے کہ جب کسری ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد کوئی کسری نہیں۔اور قیصر ہلاک