قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 441 of 1460

قندیل ہدایت — Page 441

441 of 1460 تحذیر الناس ۳۴ انصاف ذاتی بوصف نبوت لیئے جیسا کہ اس پیچد ان نے عرض کیا ہے تو پھر سوا رسول الله علم اور اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نجومی مسلم نہیں کہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کی افراد خارجی ہی پر آپکی افضلیت ثابت نہ ہوگی افراد مقدرہ پر بھی آپکی افضلیت ثابت ہو جائیگی بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلم بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمد ی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائے کہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور بنی تجویز کیا جائے بالمجالہ ثبوت اثر مذکور دونا مثبت خاتمیہ ہے معارض و مخالف خاتم النبیین نہیں جو یوں کہا جائے کہ یہ اثر نشانہ بنے مخالف یہ دایہ ثقات ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہوگیا ہوگا کہ حسب مزعوم مشکران اثر اس اثر میں کوئی علت نامعہ بھی نہیں جو اسی راہ سے انکار صحت کیجئے کیونکہ اول تو امام بیہنی کا اس اللہ کی نسبت صحیح کہنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کوئی عادت نامعہ خفیہ قاد حرق‎ الصحنہ نہیں دوسرے شندہ دو تھا تو یہی تھا کہ مخالف جملہ خاتم النبین ہے۔اور عادت تھی تب ہی تھی۔اگر اور کوئی آیت یا حدیث ایسی ہی میں سے سات سے کم زیادہ زمینوں کا ہونا انبیاء کا کم و بیش ہونا یا نہ ہونا ثابت ہوتا تو کہہ سکتے تھے کہ وجہ شند و ذیہ ہے مگر آج تک نہ کسی نے ایسی آید و حدیث سنی نہ مار حیون نے پیش کی ملے ہذا القیاس مضمون علت قادحہ کو خیال فرمائے آج تک سوار مخالفت مضمون مذکور کسی نے کوئی وجہ ناوج فی الا لہ المذکور پیش نہیں کی اور فقط احتمال بے دلیل اس باب میں کافی نہیں ورنہ بخاری و مسلم کی حدیبینی بھی اس حساب سے شاذو معلل ہو جائیں گی۔اور نیز یہ بھی واضح ہو گیا ہوگا کہ یہ تاویل کہ یہ اثر اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔یا انبیا داراضی ما تحت سے مبلغان احکام مراد ہیں ہرگز قابل انتفات نہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ باعث تاویلات مذکورہ فقط یہی مخالفت حاتمیت تھی۔جب مخالفت ہی تو ایسی تاویلیں کیوں کیجئے جن مدلول معنے مطابقی سے کچھ علاقہ ہی نہیں باقی رہی یہ بات کہ بڑوں کی تاویل کو نہ ماننے تو ان کی تحقیر تعوذ باللہ لانہم آئے تھی۔یہ انہیں لوگوں کے خیال میں آ سکتی ہے جو بڑوں کی بات فقط اند ماہ بے ادبی نہیں مانا کہ ہے۔ایسے لوگ اگر ایسا سمجھیں تو بجا ہے المر یقیں علی