قندیل ہدایت — Page 437
تحذیر الناس 437 of 1460 لمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم کیا فرماتے ہیں علماء دین اس باب میں کہ زید نے یہ تمتع ایک عالم کے جس کی تصدیق ایک مفتی مسلمین نے بھی کی تھی دربارہ قول ابن عباس منجو در منشور وغیرہ میں ہے۔ان الله خلق سبع ارضین فی کل ارض ادم کا دم و نوح کو حکم ابراهیم کا براهیمیکم و عیسی کیسا کھ و نبی کنتیکھ کے یہ عبارت تحریر کی کہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ حدیث مذکور صحیح اور معتبر ہے۔اور زمین کے طبقات بعد اجدا ہیں۔اور ہر طبقے میں مخلوق خدا ہے اور حدیث مذکور سے ہر طبقہ نہیں انبیاء کا ہونا معلوم ہوتا ہے لیکن اگر چہ ایک ایک نماتم کا ہونا طبقات باقیہ میں ثابت ہوتا ہے۔مگر اس کا مثل ہونا ہمارے خاتم النبین مسلم کے بت نہیں۔اور نہ یہ میں عقیدہ ہے کہ وہ خاتم مماثل آنحضرت مسلم کے ہوں اس لیے کہ اولاد آدم جس کا ذکر و لقد کرمنا بنی ادم میں ہے۔اور سب مخلوقات سے افضل ہے وہ اسی طبقہ کے آدم کی اولاد ہے۔بالا جماع اور ہمارے حضرت ملحم سب اولاد آدم سے افضل ہیں تو بلا شبہ آپ تمام مخلوقات سے افضل ہوئے۔پس دوسرے طبقات کے خاتم جو مخلوقات میں داخل ہیں۔آپ کے تماثل کسی طرح نہیں ہو سکتے۔انہی اور باوجود اس تحریر کے زید یہ کہتا ہے کہ اگر شروع سے اس کے خلاف ثابت ہو گا تو میں اسی کو مان لوں گا۔میرا اضرار اس تحریر پر انہیں میں علماء شرع سے استفتاء یہ ہے کہ الفاظ حدیث ان معنوں کو محتمل ہیں یا نہیں۔اور زید بوجہ اس تحریر کے کافر یا فاسق یا خارج اہل سنت وجماعت سے ہوگا یا نہیں۔بینوا توجروا الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله خاتم النبيين و سية المرسلين واله واصحابه اجمعين - بعد محمد و صلوہ کے قبل عرض جواب یہ گذارش ہے کہ اول معنے خاتم النبین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ وقت نہ ہو سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنے ہے کہ آپ کا نہ مانہ انبیاء