قندیل ہدایت — Page 353
مباحثہ شاہجہاں پور 353 of 1460 ۳۳ البركة گوریز کا اتباع کیا جائے اگر کوئی نادان یوں کہے کہ گورنر سابق بھی تو ملکہ ہی کا نائب تھا۔تو اس عذر ک کوئی نہیں سنتا ایسے ہی یہ عذر کہ حضرت جیسے علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی تو رسول خدا تھے اس وقت قابل استماع نہیں بلکہ جیسے اسوقت اگر گورنر سابق بھی موجود ہو تو ار ڈلٹن ہی کا اتباع کرے جو گور نہ زمانہ ھال ہو ایسے ہی ہیں۔زمانے میں اگر حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت جیسے علیہ السلام بھی موجود ہوتے تو انکو چار نا چار رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا اتباع کرنا پڑتا اور اگر کوئی شخص اپنے خیال کے موافق بوجہ غلطی کوئی عیب ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ذشتہ لگائے بھی تو ہم ہزار عیب اُنکے بزرگوں میں نکال سکتے ہیں یہی تقریر ہورہی تھی جو پادری صاحب نے فرمایا کہ گھنٹہ پورا ہو گیا۔خیر مولوی صاحب تو بیٹھے اور عیسائیوں کی طرف سے پادری محی الدین پیشاوری اٹھے اور مولوی صاحب کی تقریر پر چار اعترض ئے جسکے دیکھنے کے بعد اہل فہم کو یقین ہوجاتا ہے کہ جیسے ہنود کی طرف سے مولوی صاب کی تقریر کے رد میں آخر جلسہ تک کوئی صدا نہ اٹھی پادری صاحبوں نے بھی گویا مطالب ضروری کو اُس تقریر کے تسلیم ہی کرلیا کیونکہ طالب اصلی اور ضروری تو اس تقریر میں میں تھیں بند اتعالیٰ کا نبوت اُسکی وحدانیت اسکا واجب الاطاعت ہونا۔نبوت کی ضرورت۔نبوت کی علامات اور صفات۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت انکی خاتمیت۔اُنکے ظہور کے بعد انہیں کے اتباع میں نجات کا منحصر ہو جانا۔ان آٹھوں باتوں میں سے تو ایک بات پر بھی پادریوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ہاں پادری محی الدین مذکور نے مضا میں ملحقہ اور زائدہ پر البتہ اعتراض کر کے انجام کار خود نادم ہوئے اور پادری صاحبوں کو نا دم کرایا وہ چار اعتراض یہ ہیں۔ایک تو انبیا کی معصومیت پر یہ اعتراض کہ حضرت آدم علیہ السلام نے باوجود مانعت خداوندی گیہوں کھالیا اور مخالفت خداوندی کی۔اور ظاہر ہے کہ اس مخالفت ہی کو گناہ کہتے al