قندیل ہدایت — Page 290
سریف کریم جلد سوم 290 of 1460 ۳۱ علامات قیامت مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي قَالَ يَحْشِى له في توبه ما گا مجھ کو دو مجھ کو دور مہدی اس کو دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر اتنا اسْتَطَاعَ اَنْ تَحْمِلَهُ رَوَاهُ الترمذى۔دیں گے کہ جتنا وہ اپنے کپڑے میں بھر کر لے جا سکے۔(ترندی) امام مہدی کے ظہور کی پیش گوئی وَعَن أم سلمة عن النبي صلى الله عَلَيْهِ حضرت ام سلم یہ کہتی ہیں کہ رسول اله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ اخْتِلَافُ عِند موت ایک خلیفہ (بادشاہ) کے مرنے پر اختلاف واقع ہوگا پھر ایک شخص مدینہ سے خَلِيفَةٍ فَيَخْرُ رَجُل من اهلِ المَدِينَةِ تجھے گا اور یکہ کی طرف بھاگ جائے گا۔نمکہ کے لوگ اس کے پاس هَا رِبًا إلى مَكّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ آئیں گے اور اس کو گھر سے باہر نکال کرائیں گے اور حجر اسود و مقام مَكَةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِی فیبا بدونہ ابراہیم کے درمیان اس کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کو اپنا خلیفہ بنائیں TOTALKLAGALAGENDAN KAWANGUAGENDANKANGAN وَيُبعث الیہ کے حالانکہ وہ شخص اس سے ناخوش ہو گا یہ شخص امام مہدی ہوں بَعْتُ مِنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بھر گے پھر شام د کے بادشاہ کی طرف سے) اس کے مقابلہ کے لئے بِالبَيْدَاء بَيْنَ مَكَّةَ وَالمَدِينَتِ ایک لشکر بھیجا جائیگا جس کو مکہ ومدینہ کے درمیان مقام بیدار پر فاذا راى النَّاسُ ذَلِكَ آتَاهُ ابدال زمین میں دھنسا دیا جائیگا۔جب لوگوں کو خبر پہنچے گی اور یہ حال معلوم الشامِ وَعَصَابٌ أَهلِ ATLEاری ہوگا تو شام کے ابدال اور عراق کے بہت سے لوگ اس کی خدمت نَيُبا يعُونَ، ثُمَّ يَنشَأَ رَجلُ مِن میں حاضر ہوں گے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے پھر قریش میں قرش أخواله كَلب ع الم سے ایک اور شخص پیدا ہو گا جس کی تنھیال قبیلہ کلب میں ہوگی۔یہ بعاً فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِ هِم وذلِكَ بَعْتُ شخص تھی اس شخص کے خلاف شکر بھیجے گا اور اس شکر پر امام کا كَلْبِ وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّة نبيهم شکر غالب آئے گا اور یہ فتنہ شکر کلب کا فتنہ ہے۔امام لوگوں کے نَبِّهِم ويلقى الإسلام بحران في الارض درمیان اپنے پیغمبر محمدصلی الہ علیہ ولیم کے احکام کے مطابق عمل کریں فيلبَتْ سَبع سنين ثمر بتونی و گے۔اور اسلام اپنی گردن زمین پر رکھ دے گا یعنی قائم و استوار ہو يُصَلَّى عَلَيْهِ المُسلِمُونَ سَوال ابو جائیگا، امام سات برس تک قائم رہیں گے اور پھر وفات پا جائیں گے اور ان کے جنازہ پر مسلمان نماز پڑھیں گے۔(ابوداؤد) دارد۔ری دے وَعَن أَبي سَعِيدٍ قَالَ ذَكَرَ رَ سُول حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک الله صلى الله عله و سلم بلاء يُصيب هذه بلا کا ذکر کیا جو اس امت پر نانول ہوگی یہاں تک کے کوئی شخص اس بلا الأمة حتى لا يجد الرَّجُلُ منی تو پنجا و الیہا سے پناہ حاصل کرنے کی جگہ نہ پائے گا پھر خداوند تعالیٰ ایک شخص کو مامور مِنَ الظُّلِهِم نَيَبْعَةُ الله رَجُلا مِن عترت و اهل فرمائیگا جو میری عزت اور میرے خاندان سے ہوگا۔وہ زمین کو اسی بيتي بملاء بِهِ الْأَرْضَ قسطا وعدلا كما ملت طرح عدل و داد سے معمور کر دیگا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ظُلما وجورًا يَرْضى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَ ہوئی ہوگی اس سے زمین کے رہنے والے بھی خوش ہوں گے اور سَاكِنُ الأَرْضِ لَا تَدَعُ السَّمَاء مِن قطرها آسمان والے بھی اس کے عہد میں، آسمان بارش کے قطروں میں سے شَيْئًا إِلَّا صَبتَهُ مِدراس اولا تدع کچھ باقی نہ رکھے گا۔یعنی نہایت کثرت سے بارش ہوگی اور زمین اپنی الْأَرْضِ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا إِلَّا اخرجته روئیدگی میں سے کچھ باقی نہ رکھے گی سب آگا دے گی یہاں تک زندہ حتى يتمنى الأحياء الاموات یعیش فی لوگ اس کی آرزو کریں گے کہ مرنے والے لوگ اس وقت زندہ ہوتے۔