قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 173 of 1460

قندیل ہدایت — Page 173

يم القرآن 173 of 1460 ۴۲۰ النساء إلَيْهِ وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمَان وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الكتب الا مالیاء اللہ زبر دست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے۔اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا صلیب پر وفات پائی اور پھر وہ جی اُٹھے اور کم و بیش دس مرتبہ اپنے مختلف حواریوں سے ملے اور باتیں کیں۔کوئی کرتا ہے کہ صلیب کی موت مسیح کے جسم انسانی پر واقع ہوئی اور وہ دفن ہوا عمر الوہیت کی روح ہو اس میں تھی وہ اُٹھائی گئی۔اور کوئی کہتا ہے کہ مرنے کے بعد مسیح علیہ السّلام جسم سمیت زندہ ہوئے اور رحیم سمیت اٹھائے گئے۔ظاہر ہے کہ اگران لوگوں کے پاس حقیقت کا علم ہوتا تو اتنی مختلف باتیں ان میں مشہور نہ ہوتیں۔۱۹۵ے یہ اس معاملہ کی اصل حقیقت ہے جو اللہ تعالٰی نے بتائی ہے۔اس میں جزام اور صراحت کے ساتھ جو چیز بتائی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح کو قتل کرنے میں سیو دی کا میاب نہیں ہوئے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔اب رہا یہ سوال کہ اُٹھا لینے کی کیفیت کیا تھی، تو اس کے متعلق کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتائی گئی۔قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرو زمین سے اُٹھا کر آسمانوں پر کہیں لے گیا، اور نہ یہیں صاف کھتا ہے کہ انھوں نے زمین پر بھی موت پائی اور صرف ان کی رُوح اُٹھائی گئی۔اس لیے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جا سکتی ہے اور نہ اثبات لیکن قرآن کے انداز بیان پر غور کرنے سے یہ بات بالکل نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے کہ اُٹھائے جانے کی نوعیت وکیفیت خواہ کچھ بھی ہوا ہر حال مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ نے کوئی ایسا معاملہ ضرور کیا ہے جو غیر معمولی نوعیت کا ہے۔اس غیر معمولی پن کا اظہار تین چیزوں سے ہوتا ہے : ایک یہ کہ عیسائیوں میں مسیح علیہ السّلام کے جسم و روح سیمت اُٹھائے جانے کا عقیدہ پہلے سے موجود تھا اور ان اسباب میں سے تھا جن کی بنا پر ایک بہت بڑا گر وہ الو نیت میسج کا قائل ہوا ہے، لیکن اس کے با وجود قرآن نے نہ صر یہ کہ اس کی صاف صاف تردید نہیں کی بلکہ بعینہ وہی " رفع ) Anton ) کا لفظ استعمال کیا بجھ عیسائی اس واقعہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔کتاب مین کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ کسی خیال کی تردید کرنا چاہتی ہو اور پھر ایسی زبان استعمال کرے جو اس خیال کو مزید تقویت پہنچانے والی ہو۔دو کمرے یہ کہ اگر مسیح علیہ السلام کا اُٹھایا جاتا ویسا ہی اُٹھایا جاتا ہوتا جیسا کہ ہر مرنے والا دنیا سے اُٹھایا جاتا ہے یا اگر اس رفع سے مراد محض درجات و مراتب کی بلندی ہوتی جیسے حضرت اور میس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ دفعنا مكانا عليا، تو اس مضمون کو بیان کرنے کا اندازہ یہ نہ ہوتا جو ہم یہاں دیکھ رہے ہیں۔اس کو بیان کرنے کے لیے زیادہ منایا الفاظ یہ ہو سکتے تھے کہ یقیناً انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو زندہ بچالیا اور پھر طبعی موت دی۔یہودیوں نے اس کو ذلیل کرنا چاہا تھا مگر اللہ نے اس کو بلند درجہ عطا ہیں یہ تیسرے یہ کہ اگر یہ رفع ویسا ہی کھولی قسم کا رفع ہوتا جیسے ہم محاورہ میں کسی مرنے والے کو کہتے ہیں کہ اُسے