قندیل ہدایت — Page 151
151 of 1460 وَلِلهِ مَاني السَّمَوَاتِ وَمَا اور اللہ کے لئے ہے جو گیا کہ آسمانوں میں ہے اور في الأر و الله رجع جو کچھ کہ زمین میں ہے اور اللہ ہی کی طرف سکا الأمورَ كُنتُمْ خَير امة رجوع کئے جاتے ہیں ) تمر اچھی امت ہو جو لوگوں کے لئے أخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ پیدا کی گئی ہے اچھے کاموں کے کرنے کو کہتے ہو ئے گئے ہوں کی ہوئی بالمعرُونِ وَتَنهون عن المنکر کے آنے سے منع کرتے ہو اللہ پر ایمان رکھتے ہوئی وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ دَلوا من اگر اہل کتاب بھی ایمان سے ہوئیں تو بلا شبہ اهُنُ الكِتب لَكَانَ خَيْرُهُم اُن کے لئے اچھا ہے اُن میں سے بعضے ایمان نعْمَ المُؤْمِنُونَ وَاكتر والے ہیں اور اکثر اُن میں فاسق همُ الْفقُونَ و جد تشبیه قرار دیدیا ، حالانکہ یہاں صرف مشبہ بہ محذوف ہے اور وہ ، موتی ہے، اور و چونش بیراه حالت ہے جو حضرت سینے پر طاری ہوئی تھی جس کے سبب وہ مردہ تصور ہوئے پس تقدیر آیت کی یہ ہے کہ : وما صلبوه ولكن شبه لهم بالموتی۔اس کی زیا تفریح اسی آیت کے اگلے لفظوں سے ہوتی ہے جہاں خدا نے فرمایا ہے کہ ،، جولوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں وہ شک میں ہیں اُن کو کچھ علم نہیں ہے بج گمان کی پیروی کے " اور پھر اس کے بعد کیا اور یقینا فرمایا کہ انہوں نے بیٹے کو قتل نہیں کیا ،، اور اس مقام ہے صلیب کا کچھ ذکر نہیں کیا بلکہ صرف قتل کی نفی کی ، اور اس سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ اوپر جو صلیب کی نفی کی تھی اُس سے نفی قتل بالتصلیب مراد تھی وہ مطلق صلیب کی - شما ماته الله باجل مسمى و رفعہ الیہ کما قال اللہ تعالٰی بل رفعه الله البيه * انہی باتوں پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے عیسائی عالموں سے سیا بلہ چاہا جس سے ایک نہایت عمدہ طور پر فطرت انسانی ظاہر ہوتی ہے۔تمام اہل مذاہب خوا، صحیح مذہب رکھتے ہوں یا غلط دو قسم کے ہوتے ہیں جہلا اور علما۔جہلا کا یقین مذہبی باتوں پر نہایت سختے اور مستحکم ہوتا ہے ، اور جو کچھ انہوں نے سمجھا ہے یا سیکھا ہے اس کے سوا وہ اور کچھ نہیں مانتے ، ہور کوئی شبہ اُن کے دل میں نہیں ہو تا۔ان کی مثال اندھے آدمی کیسی ہے کہ وہ اُس رستہ پر جو اس کو کسی نے بتلا دیا ہے چلا جاسکا ہے اور اس کے ٹھیک ہونے پر یقین رکھتا ہے اور خود نہیں جانتا کہ در حقیقت یہ رستہ اسی جگہ با تک ہے جہاں اُس کو جاتا ہے یا نہیں۔پھر اگر کس نے که د یا کہ میاں اند حصے آگے گڑھا ہے یا دیں ہے تو وہ بغیر کسی شک کے اُس پر یقین کر لیتا ہے اور تغیر جاتا ہے ، پھر جس نے جو راہ بتائی اس طرف ہو لیا۔یہی جہلاے اہل مذہب کا حال ہے