قندیل ہدایت — Page 1460
1460 of 1460 ۲۵ کہ محمد علی نے ان دونوں جاعتوں کے انکار و آرا کامطالعہ کیا اور پرانا نظریہ پیش کیا کہ سلام میں قل مرتد جائز نہیں، ہاں قتل مفید نہ صرف جائز بلکہ مضروری ہے۔یہ رائے محمد علی نے پیش کی جسب توقع اس کی مخالفت بھی ہوتی لیکن محمد علی اس اختلاف و مخالفت سے متاثر نہیں ہوتے اس لئے کہ انھوں نے اس مسئلہ پر جو رائے قائم کی تھی رو علی وجہ البصیرت تھی ، ان کا خیال یہ تھا کہ ملا اکراہ فی الدین کی رو سے تین مرتزنا جائز ہے اور " الفقہ اکبر من القتل کے اعتبار سے قتل مفسد نہ صرف جائز بلکہ بعض صورتوں میں فرض ہے۔اس مسئلہ پر انھوں نے آیات قرآنی، حادیث رسول ، اقوال فقها ، خیالات الله ، افکار میتیدین کا آنا اور خیر جمع کر لیا ایک شخص پر بسیرت کے ساتھ اس منایا اس ذخیرہ سے متقع ہونیکے نے اپنی بصیرت کے مطابق ایک رات قائم کی اور اس پر آخر وقت تک مصر ہے۔ملی نے کی ، اور اپنے متعدد پرز: مقالات سار دابل | سے اس مسئلہ کی سیاسی اور مذہبی ہمیت بھائی کیا اس مسئلہ پرھیبی محمد علی نے بات فراہیم کئے، عہد معلوما۔رسالت عہد صحا بہ احمد تابعین کے حالات و واقعات کی بنجو کی فقہ واحادیث کا ذخیرہ اپنے سامنے رکھا اور اس کے بعد بیانگ دہل اس کی مخالفت کی ، شخص سے مناظرہ کیا ، مقالات لکھے لوگوں کو اپنی رائے سے موافق بنانا چاہا اور بری محرک اس میں کامیاب بھی ہوئے۔واقعات دیوبند | ایک اخبار نویں کے لئے رہے زیادہ دلچسپ چیز یہ ہوتی ہے کہ ملک میں کوئی ہنگامہ ہو اور اس کا قلم پوری روانی کے ساتھ بڑی بڑی پسنسنی خیز ، سرخیاں دے کر اپنے ہمدرد قوم ہونے کا لوہا متوالے چنانچہ والا سلوم دیوبند کی مشہور اسٹرانک میں تقریبا ! http://mujahid۔xtgem۔com