قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1457 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1457

1457 of 1460 341 بھی شامل ہیں۔اور اگر مولانا محمد شفیع دیوبندی رئیس مملکت مقرر ہو جائیں تو وہ ان لوگوں کو جنہوں نے دیو بندیوں کو کافر قرار دیا ہے۔دائرہ اسلام سے خارج قرار دینگے اور اگر وہ لوگ مرتد کی کی تعریف میں آئیں گے یعنی انہوں نے اپنے مذہبی عقائد ورثے میں حاصل نہ کیے ہوں گے۔بلکہ خود اپنا عقیدہ بدل لیا ہو گا۔تو مفتی صاحب ان کو موت کی سزا دے دیں گے۔جب دیو بندیوں کا ایک فتویٰ (13) Ex۔D۔E) جس میں اثناعشری شیعوں کو کافر و مرتد قرار دیا گیا ہے، عدالت میں پیش ہوا تو کہا گیا کہ اصلی نہیں بلکہ مصنوعی ہے لیکن جب مفتی محمد شفیع نے اس امر کے متعلق دیو بند سے استفسار کیا تو اس درالعلوم کے دفتر سے اس فتوے کی ایک نقل موصول ہو گئی جس پر دارالعلوم کے تمام اساتذہ کے دستخط ثبت تھے۔اور ان میں مفتی محمد شفیع صاحب کے دستخط بھی شامل تھے۔اس فتوے میں لکھا ہے کہ جو لوگ حضرت صدیق اکبر کی صحابیت پر ایمان نہیں رکھتے ، جو لوگ حضرت عائشہ صدیقہ کے قاذف ہیں اور جو لوگ قرآن میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں، وہ کافر ہیں۔مسٹر ابراہیم علی چشتی نے بھی جنہوں نے مطالعہ کیا ہے اور اپنے مضمون سے باخبر ہیں۔اس رائے کی تائید کی ہے، ان کے نزدیک شیعہ اپنے اس عقیدے کی وجہ سے کافر ہیں کہ حضرت علی نبوت میں ہمارے رسول پاک کے شریک تھے۔مسٹر چشتی نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا ہے کہ اگر کوئی سنی اپنا عقیدہ بدل کر شیعوں ہم خیال ہو جائے تو آیا وہ اس ارتداد کا مرتکب ہو گا جس کی سزا موت ہے۔شیعوں کے نزدیک تمام سنی کا فر ہیں اور اہل قرآن یعنی وہ لوگ جو حدیث کو غیر معتبر سمجھتے ہیں اور واجب استعمیل نہیں مانتے متفقہ طور پر کافر ہیں۔اور یہی حال آزاد مفکرین کا ہے۔اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ سنی ، دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر بجھتی ہے تو جہاں کوئی شخص ایک عقیدے کو بدل کر دوسرا اختیار کرے گا۔اس کو اسلامی مملکت میں لازماً موت کی سزادی جائے گی۔اور جب یہ حقیقت مد نظر رکھی جائے کہ ہمارے سامنے مسلم کی تعریف کے معاملے میں کوئی دو عالم بھی متفق الرئے نہیں ہو سکے تو اس عقیدے کے نتائج کا قیاس کرنے کے لیے کسی خاص قوت