قندیل ہدایت — Page 134
134 of 1460 www۔sirat-e-mustaqeem۔com Kashf-ul-Mahjoob - 285 نہیں ہے۔جیسے کہ غیر معتدل شخص کی روح، جو ایک دوسرے کے بغیر نہیں پائی جاتی مثلا الم و تکلیف اور اس کا علم، کہ یہ دونوں وجود میں تو مختلف ہیں لیکن وقوع میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔اس معنی میں اسے عرضی بھی کہا جاتا ہے جس طرح کہ حیات کہا جاتا ہے۔جمہور مشائخ اور اکثر اہل سنت و جماعت کا مذہب یہ ہے کہ روح نہ عینی ہے نہ وصفی ، اللہ تعالیٰ جب تک روح کو انسانی قالب میں رکھتا ہے تو وہ دستور کے مطابق قالب میں حیات پیدا کرتا ہے۔اور حیات انسان کی صفت ہے اور وہ اس سے زندہ رہتا ہے۔اور یہ کہ روح جسم انسانی میں عاربیہ ہے ممکن ہے کہ وہ انسان سے جدا ہو جائے اور حیات کے ساتھ زندہ رہے۔جس طرح کہ نیند کی حالت میں روح نکل جاتی ہے مگر وہ حیات کے ساتھ زندہ رہتی ہے اور یہ ممکن ہے کہ جسم سے روح نکل جانے کے وقت اس میں نقل و حلم باقی رہے۔اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شہداء کی رو میں سبز پرندوں کی شکل میں ہوتی ہیں۔یقینا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ روح عینی ہے۔نیز آپ نے فرمایا " الارواح جنود مجندة روحیں صف بستہ لشکر ہیں۔لامحالہ جنود باقی ہوتا ہے اور عرض پر بنا جائز نہیں اور نہ عرض از خود قائم ہو سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ روح ایک جسم لطیف ہے جو اللہ تعالی کے حکم سے آتی جاتی ہے۔نبی كريم عليه التحية والتسلیم فرماتے ہیں کہ شب معراج میں نے ، حضرت آدم صفی اللہ، یوسف صدیق، موسیٰ کلیم اللہ، ہارون حلیم اللہ عیسی روح اللہ اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کو آسمانوں پر دیکھا۔بلا شبہ وہ ان کی ارواح مقدسہ تھیں۔اگر روح سے عرضی ہوتی تو از خود قائم نہ ہوتی اور اسے ہستی و وجود کی حالت میں نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔اگر وہ عرضی ہوتی تو اس کے وجود کے لئے کوئی مقام درکار ہوتا۔تا کہ عارض اس مقام میں قیام کرے اور وہ مقام اس کا جو ہر ہوتا اور جواہر مرکب و کثیف ہوتے ہیں۔معلوم ہوا کہ رُوح کے لئے جسم لطیف ہے۔جب کہ وہ صاحب جسم ہے تو اس کا دیکھنا بھی ممکن ہے۔خواہ دل کی آنکھ سے ممکن ہو یا سبز پرندوں کی شکل میں یا صف بستہ لشکری کی صورت میں جن سے وہ آئیں اور جائیں۔اس پر حدیثیں شاہد ہیں اور حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:۔قل الروح من أمر ربي اے محبوب تم کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔اب بے دینوں کے ایک اختلاف کا بیان اور باقی ہے وہ یہ کہ روح کو قدیم کہتے ہیں اور اس کو پوجتے ہیں۔اشیاء کا فاعل اور ان کا مد تم اسی کو جانتے ہیں۔وہ ارواح کو آلہ کہتے اور