قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1310 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1310

۹۷۷ 1310 of 1460 متی 11:۷ 977 ۱۶ روزہ رکھنا برے گا۔۱ اگر تم لوگوں کے قصور معاف کرو گے تو تمہارا آسمانی باپ بھی کے پھولوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔نہ وہ محنت کرتے تمہیں معاف کرے گا ۱۵ اور اگر تم لوگوں کے قصور معاف نہ ہیں نہ کاتے ہیں ۲۹ پھر بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی اپنی کرو گے تو تمہارا باپ بھی تمہارے قصور معاف نہ کرے گا۔ساری شان و شوکت کے باوجود اُن میں سے کسی کی طرح ملٹس نہ تھا۔جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنور میں جھونکی اجب تم روزہ رکھو تو ریا کاروں کی طرح اپنا چہرہ اداس جاتی ہے ایسی پوشاک عطا فرماتا ہے تو آے کم ایمان والو! کیا وہ مت بناؤ۔وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ وہ روزہ تمہیں نہ پہنائے گا؟ لہذا فکر مند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے سے ہیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو اجر انہیں ملنا چاہیے تھا وہ یا کیا پئیں گے یا یہ کہ ہم کیا پہنیں گے؟ ۳۲ کیونکہ ان چیزوں کی مل چکا۔بلکہ جب تُو روزہ رکھے تو اپنا منہ دھو اور سر میں تیل تلاش میں تو غیر قوموں کے لوگ رہتے ہیں۔اور تمہارا آسمانی باپ ڈال ۱۸ تاکہ لوگوں کو نہیں بلکہ تیرے آسمانی باپ کو جو نظر سے تو جانتا ہی ہے کہ تمہیں ان سب چیزوں کی ضرورت ہے۔پوشیدہ ہے معلوم ہو کہ تو روزہ دار ہے اور تیرا باپ جو پوشیدگی میں ۳۳ لیکن پہلے تم اُس کی بادشاہی اور راستبازی کی جستجو کرو تو یہ دیکھتا ہے تجھے اجر دے گا۔چیزیں بھی تمہیں عطا کر دی جائیں گی۔۳۴ پس کال کی فکر نہ کرو کیونکہ کل ۱۹ ۱۷ آسمانی خزانہ و اپنے لیے زمین پر مال وز رجمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ لگ جاتا ہے اور چور نقب لگا کر چرا لیتے ہیں۔۲۰ بلکہ اپنے لیے آسمان پر خزانہ جمع کرو جہاں کیڑا اور زنگ نہیں لگتا اور نہ چور نقب کا دن اپنی فکر خود ہی کرلے گا۔آج کے لیے آج ہی کا دکھ بہت ہے۔L عیب جوئی عیب جوئی نہ کرو تا کہ تمہاری بھی عیب جوئی نہ ہو۔کیونکہ جس طرح تم عیب جوئی کرو گے اُسی طرح لگا ک چراتے ہیں۔کیونکہ جہاں تیرا مال ہے وہیں تیر دل بھی ہوگا۔تمہاری بھی عیب جوئی کی جائے گی اور جس پیمانہ سے کم ناپتے ہو اُسی سے تمہارے لیے بھی نا پا جائے گا۔بدن کا چراغ ۲۲ آنکھ بدن کا چراغ ہے۔لہذا اگر تیری تنکھ اچھی ہے تو تیرا تو اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا کیوں دیکھتا ہے جب کہ تیری سارا بدن پر نور ہوگا۔۲۳ اگر تیری آنکھ خراب ہے تو تیرا سارا بدن اپنی آنکھ میں شہتیر ہے جس کا تو خیال تک نہیں کرتا ؟ " جب تیری تاریک رہے گا۔پس اگر تیرے اندر کی روشنی ہی تاریکی بن جائے اپنی آنکھ میں شہتیر ہے تو تو کس منہ سے اپنے بھائی سے کہہ سکتا ہے تو وہ تاریکی کیسی بڑی ہوگی ! خدا اور دولت کہ لا میں تیری آنکھ سے تنکا نکال دوں؟ اے ریا کار! پہلے اپنی آنکھ کا شہتیر تو نکال پھر اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو اچھی طرح ۲۴ کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔یا تو وہ ایک دیکھ کر نکال سکے گا۔سے دشمنی رکھے گا اور دوسرے سے محبت یا ایک کا ہوکر رہے گا اور پاک چیز گتوں کو مت دو اور اپنے موتی سوروں کے آگے نہ دوسرے کو حقیر جانے گا تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر ڈالو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ انہیں پاؤں سے روند کر پلٹیں اور تمہیں سکتے۔پھاڑ ڈالیں۔فکر اور پریشانی مانگنا ، ڈھونڈ نا اور کھٹکھٹانا ۲۵ یہی وجہ ہے کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ نہ تو اپنی جان کی ے مانگو تو تمہیں دیا جائے گا۔ڈھونڈو تو پاؤگے۔کھٹکھٹاؤ تو فکر کرو کہ تم کیا کھاؤ گے یا کیا پیو گے۔نہ اپنے بدن کی کہ کیا تمہارے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا ۸ کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے پہنو گے؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ اُسے ملتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے پاتا ہے اور جو کوئی کھٹکھٹاتا ہے اُس ۲۶ ہوا کے پرندوں کو دیکھو جو ہوتے نہیں اور نہ ہی فصل کو کاٹ کر کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔کھتوں میں جمع کرتے ہیں۔پھر بھی تمہارا آسمانی باپ اُن کی خم میں ایسا کون ہے کہ اگر اُس کا بیٹا روٹی مانگے تو وہ پرورش کرتا ہے۔کیا تمہاری قدر اُن سے زیادہ نہیں ؟ ۲۷ تم میں اُسے پتھر دے۔ایا اگر مچھلی مانگے تو اُسے سانپ دے؟ اگر کون ہے جو فکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟ تم بُرے ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ۲۸ پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو؟ جنگل میں سوسن ہوتو تمہارا آسمانی باپ انہیں جو اُس سے مانگتے ہیں ہم سے بڑھ کر ۹