قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1104 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1104

1104 of 1460 ۳۵ دجال کا حال مشکوة شریف مترجم جلد سوم وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنّها تذهب کے نیچے پہنچ کر سجدہ کرتا ہے پھر حضور رب العزت میں حاضری کی اجازت سجُدَ تَحتَ العَرشِ فَتَستأذن چاہتا ہے اس کو اجازت کی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ مشرق کی يُؤْذَنَ لَهَا وَيُوشِكَ أن تسجد طرف جائے اور وہاں سے طلوع کرے، اور قریب سے، وہ وقت کہ وہ سجدہ وَلا تُقْبَلُ مِنْهَا وَتَسْتَأْذِنَ فَلَا یون کریگا اور اسکا سجدہ قبول نہ کیا جائیگا۔اور حاضری وطلوع کی اجازت لَهَا وَيُقَالُ لَهَا ارجعي من حيث چاہیگا اور اجازت نہ دی جائیگی اور یہ حکم دیا جائیگا کہ جس طرف سے آیا ہو جتِ فَتَطْلَعُ مِنْ مَغْرِ بِهَا فذالك اُدھری واپس جا اور ادھر سے ہی طلوع ہو۔چنانچہ وہ مغرب سے طلوع قَولُه وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُستقر کھا کر یگا۔اور یہی مراد ہے خداوند تعالے کے اس قول سے والشمس قَالَ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ العَرْشِ مَا وَاله تجرى لمستقر لها و معنی آفتاب اپنے مستقر کی طرف جاتا ہے ، رسول للہ نے ستر کے تعلق فرمایا ہے کہ وہ عرش الہی کے نیچے ہے۔(مسلم) مُسلم - فتنہ دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ۲۳۳ وعن عمران ابنِ حُصَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ رسول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے آدم کی پیدائش اور روز قیامت کے بَيْنَ خَلْقِ دَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أمر اكبر درمیان ایک بہت بڑا فتنہ ظاہر ہوگا اور وہ دجال کا فتنہ مِنَ الدَّجَالِ تَرَوَاهُ مُسْلِمٌ ر قبال کا نا ہونگا و مسلم) دبخاری و سلم) وَعَن عَبدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ حضرت عبد اللہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَانَّ الله لا تخف فرمایا ہے خداوند تم پر مخفی نہیں ہے دیعنی تم اس کی حقیقت سے عَلَيْكُمُ انَّ اللهَ تَعَالٰی لَيْسَ بِاعْوَرَوَانَ آگاہ ہو وہ کا تا نہیں ہے۔اور سیح دجال کانا ہے۔یعنی اسکی المسيحَ الدَّجَالَ أَعُورُ عن المنى كان واپنی آنکھ کافی ہے۔گویا وہ انگور کا ایک پھولا ہوا دانہ عَيْنَهُ عِنْبَةٌ طَافِية مُتَّفَقٌ ا متفق عليه مر بنی نے اپنی امیت کو دقبال سے ڈرایا ہے ۳۵ه وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلی حضرت انس کہتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِن نبي الاقدا نذر کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو جھوٹے کا نے سے نہ أمتَهُ الْأَعْوَرَ الكَذَّابَ أَلَا إِنَّ ا عو ر و ڈرایا ہو۔خبردار دو قال) کانا ہے اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے إِنَّ رَبَّكُمُ لَيْسَ بِاعُور مكتوب بین اور اس کی (دجال کی آنکھوں کے درمیان کی۔فت - ر- لکھا ہوا ہے۔عَيْنَيْهِ كُنْ رَمُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔- درور دجال کی جنت اور دوزخ دینجاری و سلم) وعن أبي هريرةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں رسول اله صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا LANGUA الله DNGLEه وسلم لا أحد تو حدیث ہے کیا میں تم کو دجال کا حال بتاؤں کسی نبی نے آج تک اپنی قوم کو اسکا عَنِ الدَّجَّالِ مَا حَدَّ ث یہ نبي قومه حال نہیں بتایا ہے وہ کانا ہوگا۔اور اپنے ساتھ دوزخ و جنت کی مانند أَنه أَعُورُ وا نه يُحْيِي مَعَهُ بِمِثْلِ الجنَّةِ و دو چیزیں لائیگا وہ میں چیز کو جنت بنائے گا وہ حقیقت میں آگ ہو النَّارِ فَالَّتِي يَقُولُ هَا الْجَنَّةُ فِی النَّارُ وانی کی اور میں کو دوزخ بتائیگا وہ جنت ہوگی ہیں تم کو اس سو ڈراتا