قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 3 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 3

قادیان کی تاریخ محل وقوع حضرت بانی جماعت احمد یہ سید نا مرزا غلام احمد علیہ السلام کے آباء واجداد میں سے ایک شخص حضرت مرزا ہادی بیگ صاحب جو فارسی الاصل ( یعنی ایرانی خاندان ) میں سے تھے سمر قند کے علاقہ سے ہجرت کر کے مختلف مقامات کا سفر طے کرتے ہوئے اپنے 200 ساتھیوں کے ساتھ 1530ء میں اس جگہ قیام پذیر ہوئے جہاں اب قادیان آباد ہے۔اس وقت یہ علاقہ جنگل بیابان تھا۔دور دور تک کوئی آبادی نہ تھی۔اپنے اس آباد کردہ گاؤں کا نام انہوں نے اسلام پور رکھا۔جو تغیر و تبدل کے مختلف مراحل طے کرتا ہوا اسلام پور قاضی اور پھر ”قادیان“ بن گیا۔کیونکہ اس علاقہ کی بھینسیں بہت مشہور تھیں اس لئے اسے ماجھا کہا جاتا تھا۔قادیان لاہور سے 70 میل اور امرتسر سے تقریبا 36 میل کی مسافت پر واقع ہے۔اسی طرح بٹالہ سے اس کی دوری 11 میل اور گورداسپور 66 سے 18 میل ہے۔اسی قادیان میں حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام 13 فروری 1835ء کو پیدا ہوئے۔اور 26 رمئی 1908 ء کو آپ کی وفات لا ہور میں ہوئی۔وہاں سے آپ کا جسد مبارک قادیان لایا گیا۔اور 27 رمئی 1908ء کو آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔سیدنا امام مہدی علیہ السلام کا مولد و مدفن ہونے کی وجہ سے قادیان ساری دنیا 3