قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 64 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 64

مسجد نور تقسیم ملک یعنی 1947 ء سے قبل قادیان میں تقریباً 12 مساجد تھیں۔اس کے علاوہ کئی اور مقامات پر بھی نماز ادا ہوتی تھی۔تقسیم کے بعد صرف تین مساجد، مسجد مبارک ،مسجد اقصیٰ اور مسجد ناصر آباد میں باقاعدہ باجماعت نمازوں کا سلسلہ جاری رہا۔اب 14 مساجد میں با جماعت نمازوں کا سلسلہ جاری ہے۔چنانچہ مذکورہ بالا تین مساجد کے علاوہ دار الانوار، دار البرکات ، دار الرحمت، مسجد نور، دار الفتوح، مسجد دار الفضل، مسجد محمود، مسجد بشارت ، مسجد طاہر منگل ،مسجد مہدی کا ہلواں اور مسجد کوٹھی دار السلام میں بھی باجماعت نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔مسجد نور بھی قادیان کی اہم مساجد میں سے ایک ہے۔اس تاریخی مسجد کی بنیاد حضرت خلیفتہ اسیح الاول رضی اللہ تعالٰی عنہ نے 5 مارچ 1910ء کو رکھی تھی۔اس کی تعمیر پر تین ہزار روپئے صرف ہوئے تھے۔جو حضرت میر ناصر نواب صاحب نے فراہم کئے تھے۔یہ مسجد تعلیم الاسلام اسکول اور کالج کے احاطہ میں ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات حضرت نواب محمد علی صاحب کی کوشی دار السلام میں 13 مارچ 1914 ء کو ہوئی تھی جو کہ کالج اور مسجد نور کے شمالی جانب واقع ہے۔14 / مارچ 1914ء کو اسی مسجد، مسجد نور میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ثانی منتخب ہوئے اور تقریباً دو ہزار لوگوں نے ان کے 64