قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 59
حضرت مسیح موعود نے مرزا امام دین کی طرف معتبر شخصیات کو بھجوایا۔مگر وہ کسی بھی طرح اس دیوار کو گرانے پر آمادہ نہ ہوئے۔پھر ضلع کی انتظامیہ کی طرف رجوع کیا گیا۔وہاں بھی ڈپٹی کمشنر کا رویہ معاندانہ تھا۔آخر مجبوراً دیوانی عدالت میں دعویٰ کیا گیا۔12 اگست 1901ء کو دیوار گرانے کا فیصلہ عدالت نے عنایا اور 20 راگست شام چار بجے اس بھنگی کو وہ دیوار گرانی پڑی جس کے ذریعہ امام دین نے تعمیر کروائی تھی۔اس ضمن میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا: یہ پیشگوئی ہے جو اُس وقت کی گئی تھی جبکہ مخالف دھوئی سے کہتے تھے کہ بالیقین مقدمہ خارج ہو جائے گا۔اور میری نسبت کہتے تھے کہ ہم ان کے گھر کے تمام دروازوں کے سامنے دیوار کھینچ کر وہ دُکھ دیں گے کہ گویا وہ قید میں پڑ جائیں گے اور جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں خدا نے اس پیشگوئی میں خبر دی کہ میں ایک ایسا امر ظاہر کروں گا جس سے جو مغلوب ہے وہ غالب اور جو غالب ہے ، وہ مغلوب ہو جائے گا۔۔۔“ پھر فیصلہ کا دن آیا۔اُس دن ہمارے مخالف بہت خوش تھے کہ آج اخراج مقدمہ کا حکم سنایا جائے گا اور کہتے تھے کہ آج سے ہمارے لئے ہر ایک قسم کی ایذا کا موقعہ ہاتھ آ جائے گا وہی دن تھا جس میں پیشگوئی کے اس بیان کے معنی کھلنے تھے کہ وہ ایک امر مخفی ہے جس سے مقدمہ پلٹا کھائے گا اور آخر میں وہ ظاہر کیا جائے گا۔سوالیسا اتفاق ہوا کہ اُس دن 59