قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 53 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 53

قبرسب سے پہلی قبر ہے۔(بحوالہ حیات طیبہ صفحہ 297) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات 26 رمئی 1908ء کو لاہور میں ہوئی تھی۔27 مئی کو آپ کو بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کیا گیا۔آپ کے دائیں ( یعنی مغربی جانب ) حضرت مولانا نورالدین صاحب کی قبر ہے۔اور بائیں (مشرقی جانب ) جگہ خالی ہے۔جو حضرت ام المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی تدفین کے لئے خالی رکھی گئی ہے۔حضرت اُم المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات 21/20 اپریل 1952ء کی درمیانی شب کور بوہ میں ہو گئی تھی۔آپ بہشتی مقبرہ میں امانتا دفن ہیں۔آپ کی وصیت تھی کہ مجھے قادیان ضرور پہنچانا یہاں نہ رکھ لینا۔( تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 115 مطبوعہ قادیان سن 2007ء) احباب جماعت کو ہمیشہ دعا کرنی چاہئے کہ وہ دن جلد آئے جب مرحومہ کی وصیت کے مطابق جماعت اس امانت کو ان کے وصیت کردہ مقام پر دفن کرنے کی توفیق پائے۔جماعت احمدیہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی مخالفت میں بھی اضافہ ہونا ایک لازمی امر تھا اور ہے۔اس کے نتیجہ میں آئندہ کبھی بھی مخدوش حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔اور ہوسکتا ہے بعض نادان مخالفین قبور کی بے حرمتی کی کوشش کریں۔چنانچہ نومبر 1925ء میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور بعض دوسرے اصحاب رضوان اللہ علیہم اور بعض دوسری قبور کے اردگرد چاردیواری بنادی گئی۔دوسری طرف بعض کم تربیت یافتہ اور غیر از جماعت دوست حضرت 53