قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 42
کیلئے گنجائش نہیں ہوتی تھی۔چنانچہ 1900ء میں مسجد کا صحن مشرق کی طرف اس قدر وسیع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ حضور کے والد کی قبر مسجد کے صحن میں آگئی۔اصل قبر مسجد کے موجودہ صحن سے چھ سات فٹ نیچے ہے۔اس لئے قبر کی جگہ پر اوپر چار دیواری بنا کر اسے اوپر سے بند کر دیا گیا۔تا کہ لوگ قبر پر سے نہ گزریں اور اس کی بے حرمتی نہ ہو۔1900ء میں مسجد اقصیٰ کے صحن کی جو توسیع ہوئی اس پر سفید ستارہ والی اینٹ استعمال کی گئی تھی اور یہ نشان اب تک موجود ہے۔اس توسیع کے بعد مسجد میں دو ہزار نمازیوں کیلئے جگہ میسر آگئی۔مسجد اقصیٰ کی عمارت میں دوسری مرتبہ توسیع 1910ء میں حضرت خلیفۃ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ہوئی۔تیسری مرتبہ توسیع 1938ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے زمانہ میں ہوئی۔7 جنوری1938ء کواس مسجد میں سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمانے کیلئے پہلی بار لاؤڈ اسپیکر استعمال فرمایا تھا۔( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 539 مطبوعہ قادیان 2007 ء ) ( الفضل 13 جنوری 1938ء صفحہ 1 تا 4) مسجد اقصیٰ کی خصوصیات 1 - مسجد اقصیٰ کی بہت سی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس میں نمازیں ادا کرتے رہے۔خاص طور پر مسجد مبارک تعمیر ہونے سے پہلے تو آپ اسی مسجد میں نمازیں ادا کیا کرتے تھے اور ذکر الہی میں مشغول رہا کرتے تھے۔اس مسجد کے قدیمی 42