قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 41
روپے میں خریدی۔( بحوالہ سیرت المہدی جلد اول صفحہ 215 ، روایت :232 مطبوعہ قادیان سن 2008ء) اور 1875ء میں ایک مسجد کی بنیا د رکھی جو مسجد اقصیٰ کہلاتی ہے۔جون 1876 میں یہ مسجد پائے تکمیل کو پہنچی۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب کہ حضرت مسیح موعود" کی عمر تقریبا چالیس سال تھی اور اس وقت آپ کا نہ کوئی دھوئی تھانہ جماعت۔قادیان میں پہلے سے ہی بہت سی مساجد کی موجودگی میں اس مسجد کی تعمیر دیکھ کر کسی شخص نے کہا کہ اتنی بڑی مسجد کی کیا ضرورت تھی۔کس نے نماز پڑھنی ہے۔اس مسجد میں چمگادڑ ہی رہا کریں گے۔(حیاۃ النبی جلد اول صفحہ 42) لیکن اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس وقت اس کی بات پر ہنس رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے بظاہر یہ بڑی نظر آنے والی مسجد کثرت از دحام کی وجہ سے ہمیشہ چھوٹی ہی ہوتی چلی جائیگی۔اس مسجد کی ابتدائی پرانی عمارت اور اُس کا صحن اور کنویں کا نشان اپنی اپنی جگہ اسی طرح موجود ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تھے۔2 رجون 1876ء کو حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب کی وفات ہوگئی۔ان کی وصیت کے مطابق انہیں اسی مسجد کے پہلو کے ایک گوشہ میں دفن کر دیا گیا۔(اللهم ارحمه وادخله الجنة) بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ا صفحہ 128 - 127 مطبوعہ قادیان 2007ء) مسجد کی ابتدائی عمارت میں تقریباً دوصد افرادنماز ادا کر سکتے تھے۔بعد میں جب جماعت احمدیہ کا قیام ہوا تو لوگ کثرت سے قادیان آنے لگے اور اس مسجد میں نمازیوں 41